خیبرپختونخوا اسمبلی نے پیکا ایکٹ اورڈیجیٹل پاکستان ایکٹ کومسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
صوبائی اسمبلی اجلاس میں حکومتی ممبرشفیع اللہ جان نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی آزاد صحافت، اظہاررائے آزادی کیخلاف پیکا ایکٹ اورڈیجیٹل پاکستان ایکٹ کومسترد کرتی ہے۔
اورصحافیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے ایسے ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے جوصحافت پر قدغن اورپابندی کاباعث ہے لہذایہ اسمبلی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پیکا ایکٹ اورڈیجیٹل پاکستان ایکٹ جیسے قانون سے، متنازعہ، ظالمانہ اورغیرجمہوری ترمیم واپس لے۔
قبل ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس سپیکربابرسلیم سواتی کی زیرصدارت شروع ہواور تلاوت کلام پاک کے بعد پیکا قانون کے تحت میڈیا کو دبانے اورآزادی صحافت کاگلہ گھونٹنے کیخلاف خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔
اس موقع پر سپیکر نے صوبائی وزیر نذیرعباسی کو صحافیوں سے اظہاریکجہتی اورانہیں منانے کا ٹاسک سونپا جس کے بعد صحافی حضرات دوبارہ ایوان کے اندر آگئے۔