وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں وزیراعظم پاکستان نے بھارت کے ساتھ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت بڑی جنگ کے دہانے پر تھے۔ کشیدگی میں اضافے کے بعد ایران نے ثالثی کی پیشکش کی جبکہ کئی عالمی طاقتوں نے بھی بحران کو کم کرنے میں مدد کے لیے قدم اٹھایا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور خطے میں امن کے فروغ میں مخلصانہ اور برادرانہ کردار ادا کرنے پر تہران کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کی سفارتی کاؤشوں کو سراہتے ہوئے گزشتہ ماہ ایرانی صدر کی کال اور بھارت کے ساتھ بحران کے دوران وزیر خارجہ عباس عراقچی کی خطے میں تعیناتی پر خصوصی طور پر روشنی ڈالی اور دونوں کو یکجہتی اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
بھارت کے بلا اشتعال حملوں جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ شہری شہید ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے جارحیت کا ذمہ دارانہ اور منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے مکمل قیام امن کا خواہاں ہے اور اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ سیز فائر کے معاہدے پر رضامند ہوا ہے۔
ہر قیمت پر اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی بھارت کی مبینہ یکطرفہ کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے ان اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں پاکستان کے لیے ‘ریڈ لائن’ قرار دیا کیونکہ آبی وسائل اس کے 24 کروڑ عوام کے لیے لائف لائن ہیں۔
وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں کشمیر کا حل طلب تنازع جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ حل پر زور دیتے ہوئے اسے خطے میں دیرپا امن کی کلید قرار دیا۔
ایران کے صدر پیزیشکیان نے حالیہ کشیدگی کے دوران شہریوں کی شہادتوں پر تعزیت کا اظہار کیا اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے ایران کی کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں بالخصوص تجارت، علاقائی رابطوں، سیکیورٹی اور عوامی سطح پر تبادلوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتے ہوئے صدر پیزیشکیان نے وزیر اعظم کو تہران کے سرکاری دورے کی دعوت دی جسے گرمجوشی سے قبول کیا گیا۔
اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک بھارت حالیہ تنازع کے دوران ایران کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بعض ‘قوتیں’ برادر ممالک کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے ارنا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا تہہ دل سے مشکور ہے اور ہم خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران سمیت برادر ممالک کے شکر گزار ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات سے آگاہ رہنا چاہیے کہ خطے میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو بیرونی عناصر کی مدد سے برادر ممالک کے درمیان غلط فہمیاں اور الجھنیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان کا مقصد دوستوں اور اتحادیوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔