ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے عہدیداروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے پھر انکار

ایران کا عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے عہدیداروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے پھر انکار

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک سینیئر عہدیدار پیر کے روز تہران پہنچ رہے ہیں تاکہ اہم مذاکرات کیے جا سکیں، تاہم جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے ’آئی اے ای اے‘ کی تکنیکی ٹیم کو دورے کی اجازت دے دی

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سینیئر عہدیدار یہ دورہ اُس وقت ہو رہا ہے جب جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے ’آئی اے ای اے‘ کے تمام معائنے معطل کر دیے تھے۔

تہران نے عالمی ایجنسی پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے 31 مئی کو ایک تنقیدی رپورٹ جاری کر کے ان حملوں کی راہ ہموار کی، جس کے بعد ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ نے ایران کو جوہری معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔

عراقچی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ آنے والے مذاکرات کا مقصد ’تعاون کے فریم ورک کا تعین‘ہے، لیکن اس وقت تک جوہری تنصیبات کے معائنے معطل رہیں گے جب تک کوئی واضح فریم ورک طے نہیں پا جاتا۔

حملوں کے بعد تعاون معطل

ایران نے جولائی میں ’آئی اے ای اے‘  کے ساتھ اپنا باضابطہ تعاون معطل کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایجنسی اسرائیل اور امریکا کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات بھی متاثر ہوئے، جو 2018 میں امریکا کی جانب سے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی کوشش تھی۔

مزید پڑھیں:ایران نے دفاعی نظام کو فعال کرنے کے لیے چین سے جدید فضائی میزائل سسٹمز حاصل کر لیے، مڈل ایسٹ آئی

ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے آئندہ کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف ضمانتیں طلب کی ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، لیکن ’ابھی تک کچھ بھی حتمی نہیں ہوا‘۔

یورپی ممالک کی جانب سے پابندیوں کی دھمکی

دوسری جانب، 25 جولائی کو ایرانی سفارتکاروں نے جرمنی، برطانیہ، اور فرانس کے حکام سے ملاقات کی، جنہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ جوہری معاہدے کی ’اسنیپ بیک‘ شق کو فعال کر سکتے ہیں، جس کے تحت اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو سکتی ہیں۔ یہ آپشن اکتوبر میں ختم ہو جائے گا اور ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس کے ’غیر متعین نتائج‘ ہوں گے۔

معائنوں کی معطلی اور مذاکرات کے جمود کے درمیان ’آئی اے ای اے‘  کا یہ دورہ ایران کے جوہری مستقبل اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles