سیلاب، حکومت پنجاب کی متاثرہ شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقلی کی اپیل

سیلاب، حکومت پنجاب کی متاثرہ شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقلی کی اپیل

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سیلابی صورت حال کے باعث عوام سے محفوظ مقامات پر منتقلی کی اپیل کر دی۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیلاب کے خطرات کی زد میں آنے والے علاقوں کے رہائشی فوری طور پر ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کی جان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے شہری انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ گھروں، فصلوں اور مویشیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا شفاف تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور متاثرین کو ان کا حق ہر صورت پہنچایا جائے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں :سیلاب، پنجاب میں خطرات برقرار، بستیاں زیرآب،فصلیں تباہ، سندھ بلوچستان میں الرٹ

مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب ہر متاثرہ شہری کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

انہوں نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیوں کی حفاظت کو ترجیح دیں اور بلا تاخیر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کشتی میں بیٹھ کر دریائے راوی کے سیلابی پانی کا جائزہ لینے پر ہونے والی تنقید کا تفصیلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ صرف علامتی نہیں بلکہ براہِ راست مشاہدے کے لیے کیا گیا تاکہ عملی طور پر مشکلات کو سمجھا جا سکے۔

مریم نواز نے کہا کہ اس معائنے کے نتیجے میں کئی اہم کمزوریاں سامنے آئیں جنہیں فوری طور پر درست کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ایک چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے براہِ راست حالات دیکھنا ضروری ہے کیونکہ دفتر میں بیٹھ کر کیے گئے فیصلے کبھی بھی زمینی حقائق کا متبادل نہیں ہو سکتے، یہ دورہ عوامی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے تدارک کے لیے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  : آج سے موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی،بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

واضح رہے کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے زائد پانی چھوڑنے کے نتیجے میں تینوں دریا بپھر گئے جس کے باعث حکام نے کئی مقامات پر دریا کے کنارے توڑ دیے، اس وقت صوبے کے 1400 سے زائد دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آچکے ہیں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں دریائے چناب سے 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنے گا۔

دوسری جانب ملک بھر میں 29 اگست سے مون سون بارشوں کا ایک اور سلسلہ داخل ہونے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ 2 ستمبر تک وقفے وقفے سے کئی علاقوں میں ’انتہائی شدید‘ بارشیں ہوں گی۔

پہلے ہی تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنے والے صوبہ پنجاب کے بھی تقریباً تمام اضلاع میں ’شدید سے انتہائی شدید‘ بارشوں کا امکان ہے، اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد اور ساہیوال میں 29 اگست سے 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، نوشہرہ اور مردان میں شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *