پاکستان کا افغانستان کی جانب سے آئندہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا اعلان

پاکستان کا افغانستان کی جانب سے آئندہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا اعلان

پاکستان نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے کی گئی حالیہ بلااشتعال جارحیت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ آئندہ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کوئی بھی اشتعال انگیزی کی گئی یا جارحیت کی گئی تو پاکستان اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرانے کی کوشش کروں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا اور آئندہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

افغان سرحد پر بلاجواز حملوں پر گہری تشویش

بیان میں کہا گیا ہے کہ 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب افغان طالبان اور ان کے اتحادی دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلاجواز حملے کیے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان پرامن ہمسائیگی اور باہمی تعاون کے اصولوں کے منافی ہیں۔

پاکستان کا مؤثر دفاع، دہشت گردوں کو بھاری نقصان

دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے سرحد کے مختلف مقامات پر کی گئی کارروائیوں میں طالبان فورسز اور دہشتگرد گروہوں کو افرادی، سامان اور ڈھانچے کے لحاظ سے شدید نقصان پہنچایا، ان ڈھانچوں کا استعمال دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے ہو رہا تھا، تمام جوابی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کی گئی۔

طالبان حکومت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی یاد دہانی

پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر واضح کیا کہ افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینا اس کی ذمہ داری ہے، طالبان حکومت علاقائی اور عالمی امن کے لیے کردار ادا کرے، اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی آزادانہ موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاک فوج کا 21 افغان چوکیوں پر قبضہ، بھارتی پراکسیز کے 200 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ کیے، آئی ایس پی آر

افغان وزیر خارجہ کے بیانات مسترد

دفتر خارجہ نے افغان نگران وزیر خارجہ کی بھارت میں دیے گئے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ پاکستان نے انہیں توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش قرار دیا، جس سے طالبان حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔

فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پر واضح مؤقف

پاکستان نے ایک بار پھر فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے، ان عناصر کی موجودگی پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے

افغان مہاجرین کی میزبانی اور مستقبل کا لائحہ عمل

پاکستان نے کہا کہ گزشتہ 4 دہائیوں سے تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی جا رہی ہے، اب ان کی موجودگی کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق منظم کیا جائے گا۔

پرامن اور نمائندہ افغانستان کی خواہش

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال اور علاقائی طور پر مربوط افغانستان کا خواہاں ہے، افغان عوام کے لیے امید ظاہر کی گئی کہ وہ ایک دن ’حقیقی نمائندہ حکومت‘ کے تحت آزادی سے زندگی گزاریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان فورسز کی جارحیت کے خلاف سوات، باجوڑ اور بلوچستان کے قبائل کا پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی، مل کر مقابلہ کرنے کا عزم

پاکستان کی پالیسی، مکالمہ اور مؤثر دفاع

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *