چینی فوجی تجزیہ کار اور پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے سابق کرنل یوے گانگ کے مطابق، قوی امکان ہے کہ یہ غیر ملکی طیارے امریکا کے ففتھ جنریشن اسٹیلتھ لڑاکا طیارے F-22 Raptor تھے۔
یوے گانگ نے مزید وضاحت کی کہ J-16 طیارہ ان اسٹیلتھ طیاروں کو نشانے پر لینے میں اس لیے کامیاب ہوا کیونکہ چینی فضائیہ ایک جامع جنگی نظام پر انحصار کرتی ہے، جس میں سیٹلائٹ، ارلی وارننگ ایئرکرافٹ، اور اینٹی-اسٹیلتھ ریڈار شامل ہیں۔
فوجی اصطلاح میں کسی طیارے کو “لاک آن” کرنے کا مطلب ہے کہ ہدف کو مکمل طور پر ٹریک کر لیا گیا ہے اور حملے کے لیے تیار پوزیشن میں لے آیا گیا ہے۔
چین کا J-16 طیارہ اگر واقعی F-22 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے تو یہ نہ صرف چین کی ٹیکنالوجی کی کامیابی ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی کہ مشرقی ایشیا کی فضاؤں میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔