لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ پر قابو پانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران حکام کو ہدایت دی ہے کہ شہر میں دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔
فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے افسران خود سڑکوں پر جا کر گاڑیوں کی نگرانی کریں اور یہ دیکھیں کہ کون سی گاڑیاں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایئر کوالٹی انڈیکس میں بہتری آئی ہے جسے برقرار رکھنا ناگزیر ہے عدالت نے ای پی اے حکام سے ان کے ڈیوٹی شیڈول طلب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ افسران کو لاہور کے علاوہ موٹرویز کے داخلی و خارجی مقامات پر بھی تعینات کیا جائے۔
یہ خبربھی پڑھیں :موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان کے لئے بڑی خبر
جج نے ریمارکس دیے کہ جب وہ خود سڑکوں پر نکلتے ہیں تو متعدد گاڑیاں دھواں چھوڑتی دکھائی دیتی ہیں لیکن متعلقہ افسران کو نظر نہیں آتیں یہ ناقابلِ قبول ہے۔
عدالت نے واضح حکم دیا کہ ایسی تمام گاڑیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور شہریوں کو آگاہی دینے کے لیے لاہور بھر میں بینرز اور ہورڈنگز نصب کیے جائیں۔
یہ خبربھی پڑھیں :گاڑی مالکان ہوشیار ! سخت ترین قانونی شکنجہ تیار کرلیا گیا
مزید یہ کہ ٹریفک پولیس کو بھی مہم کا حصہ بنایا جائے تاکہ اس پر عمل درآمد یقینی ہو سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ساٹھ ٹن کاربن کے اخراج والے ٹرک ضبط کیے گئے ہیں جبکہ سولہ غیر قانونی رکشہ ورکشاپس کو بند کیا جا چکا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب بھر میں یہ مہم مزید تیز کی جائے اور آئندہ دو ہفتوں میں کسی بھی دھواں چھوڑتی گاڑی کو سڑک پر نہ دیکھا جائے۔
عدالت کی طرف سےحکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ شہر میں دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔