وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ترامیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ان مجوزہ ترامیم پر صارفین اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے جمع کرائے گئے اعتراضات پر 6 فروری کو عوامی سماعت مقرر کر دی ہے۔ ان ترامیم کو ملک کے توانائی نظام میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے سولر صارفین پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
نیپرا کے مطابق اتھارٹی نے 16 دسمبر کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں مجوزہ ترامیم کا ڈرافٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد صارفین، سولر انڈسٹری اور دیگر متعلقہ فریقین سے 30 دن کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کی گئی تھیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ’موصول ہونے والے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ عوامی سماعت کے دوران لیا جائے گا، جس کے بعد پالیسی میں ترامیم سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا‘۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مجوزہ نیٹ بلنگ پالیسی کے تحت قومی گرڈ کو ایکسپورٹ کی جانے والی بجلی کے یونٹس کی قیمت 11 روپے فی یونٹ مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جو موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم سمجھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ یا ریلیف فراہم نہیں کیا جائے گا، جس سے سولر صارفین کی مجموعی بچت میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اگر یہ ترامیم منظور ہو جاتی ہیں تو سولر صارفین کو قومی ٹیرف کے تحت استعمال ہونے والی بجلی اور ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس کے لیے الگ الگ بلز جاری کیے جائیں گے۔ اس نئے نظام کے تحت صارفین کی درآمد شدہ بجلی مہنگے قومی ٹیرف پر شمار ہو گی، جبکہ گرڈ کو دی جانے والی بجلی کم نرخ پر خریدی جائے گی، جس سے موجودہ نیٹ میٹرنگ کا بنیادی تصور متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ مجوزہ تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب وفاقی حکومت توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے گردشی قرضے، سبسڈی کے بوجھ اور مجموعی اخراجات میں کمی کے لیے اصلاحات کر رہی ہے۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ’نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو مالی نقصان ہو رہا ہے، جس کا بوجھ بالآخر دیگر صارفین پر منتقل ہوتا ہے‘۔
دوسری جانب سولر صارفین، سولر انڈسٹری اور ماہرین توانائی نے ان مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کم ایکسپورٹ ریٹ اور یونٹ ٹو یونٹ سہولت کے خاتمے سے نہ صرف سولر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو بھی نقصان پہنچے گا‘۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلے گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر سسٹمز لگانے کے رجحان کو سست کر سکتے ہیں۔ نیپرا کی 6 فروری کو ہونے والی عوامی سماعت کو اس حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں صارفین، صنعتکار اور دیگر سٹیک ہولڈرز اپنے مؤقف پیش کریں گے۔ اس سماعت کے بعد ہی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں متوقع ترامیم کے مستقبل کا حتمی فیصلہ سامنے آنے کا امکان ہے۔