خصوصی افراد کے عالمی دن‘ کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ، ان کی فلاح و بہبود اور قومی ترقی میں ان کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دونوں سربرہان مملکت نے واضح کیا کہ ایک مضبوط، ہمہ گیر اور منصفانہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں خصوصی افراد کو عزت، احترام اور برابری کی بنیاد پر ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
صدر آصف علی زرداری کا پیغام
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر، میں ایک مرتبہ پھر ہماری قومی وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم خصوصی افراد کے حقوق اور وقار کے تحفظ اور قومی زندگی میں ان کی مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان وفاقی و صوبائی سطح پر ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے ذریعے خصوصی افراد کو تعلیم، صحت، رسائی، نقل و حرکت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
صدر نے خاص طور پر ’قومی شناختی کارڈ پر خصوصی لوگو، معذوری کے سرٹیفیکیٹس، سماجی تحفظ کی اسکیموں تک آسان رسائی اور بحالی کے نظام‘ کا ذکر کیا جو ایک زیادہ بااختیار معاشرے کی جانب پیش رفت کی علامت ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کے مطابق ’منصفانہ معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم سب کے لیے قابلِ رسائی ماحول اور مناسب انفراسٹرکچر میسر ہو‘۔ انہوں نے شہریوں، اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ سماجی اور رویّوں پر مبنی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ خصوصی افراد باوقار اور آزادانہ زندگی گزار سکیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ خصوصی افراد کی تعلیم، روزگار اور قومی ترقی میں حصہ داری پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا پیغام
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خصوصی افراد کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں ان کی شمولیت قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال عالمی دن کا موضوع ’خصوصی افراد کی معاشرے میں شمولیت اور سماجی ترقی‘ رکھا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی ان طبقات کی فلاح اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے، اور یہ کہ جسمانی کمی کسی فرد کی ذہنی صلاحیت اور بنیادی حقوق کا انکار نہیں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت خصوصی افراد کے حقوق کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اور اسی لیے قانونی، انتظامی اور سماجی سطح پر جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ’خصوصی افراد کے حقوق کا ایکٹ، رجسٹریشن، معاونت، آلات کی فراہمی، طبی معائنہ، کوٹہ سسٹم، رسائی کے اقدامات اور استعداد کار بڑھانے کی ٹریننگز‘ جیسے مختلف پروگراموں کا حوالہ دیا۔
وزیر اعظم کے مطابق ان اقدامات کا مقصد خصوصی افراد کے لیے ایک دوستانہ، معاون اور ہمدردانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’خصوصی افراد کے حقوق کی کونسل‘ اور ’سی آر پی ڈی ‘ حکومتی پالیسیوں کی نگرانی اور ان پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ بہت سے اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم خصوصی افراد کی مکمل نمائندگی اور مسائل کے حل کے لیے مزید مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے شہریوں، سرکاری و نجی اداروں، اساتذہ، سول سوسائٹی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ’ایسے پاکستان کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دیں جہاں خصوصی افراد اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں‘۔ انہوں نے کہا کہ امتیازی سلوک سے پاک معاشرہ ہی حقیقی ترقی کی بنیاد ہے اور تمام شہریوں کے حقوق، عزت اور وقار کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے جہاں خصوصی افراد کو نہ صرف مکمل حقوق اور سہولیات حاصل ہوں بلکہ وہ ملک کی ترقی میں برابر کے شریک بن سکیں۔