روس کاکینیڈا،فرانس اورپرتگال سے فوجی تعاون کے معاہدے ختم کرنے کااعلان

روس کاکینیڈا،فرانس اورپرتگال سے فوجی تعاون کے معاہدے ختم کرنے کااعلان

روس کی حکومت نے کینیڈا، فرانس اور پرتگال کے ساتھ فوجی تعاون کے موجودہ معاہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،یہ اعلان روس کے وزیراعظم میخائل میشوسٹن کے دستخطوں کے ساتھ سرکاری ویب سائٹ پر جاری حکم نامے میں کیا گیا۔

روسی حکومت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد ملک کی دفاعی پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے نئے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔
حکم نامے کے مطابق سب سے پرانا معاہدہ سوویت یونین اور کینیڈا کے درمیان فوجی نوعیت کے دوروں کے سلسلے میں 20 نومبر 1989 کو ماسکو میں طے پایا تھا۔

فرانس کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ روسی فیڈریشن اور فرانس کی حکومت کے درمیان 4 فروری 1994 کو ماسکو میں دستخط کیا گیا تھا جبکہ پرتگال کے ساتھ فوجی تعاون کا معاہدہ 4 اگست 2000 کو ماسکو میں طے پایا۔

یہ بھی پڑھیں :روس نے ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کردی، یوکرین کو معاہدہ قبول کرنے کے لیے ڈیڈ لائن

ان معاہدوں کے تحت دونوں فریقین نے فوجی دوروں، تربیتی پروگرامز اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرنے اور منصوبے بنانے کا عمل شروع کیا تھاروسی حکومت نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ اب یہ تمام معاہدے ختم کر د ئیے گئے ہیں اور یہ اقدامات فوری طور پر نافذ ہوں گے۔

وزارت خارجہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ کینیڈا، فرانس اور پرتگال کو باضابطہ طور پر اس فیصلے کے بارے میں مطلع کرے تاکہ دونوں ممالک باہمی تعلقات کے مستقبل کے لیے آگاہ رہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے روسی صدر پیوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت دیدی

ماہرین کے مطابق روس کا یہ اقدام عالمی سطح پر فوجی اور سیاسی تعلقات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مستقبل میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کی فضا متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ فیصلے ان ممالک کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات اور معاہدوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles