یونان میں ایک اور انسانی المیہ پیش آیا ہے جب تارکین وطن کی ایک کشتی حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں،یہ واقعہ جنوب مشرقی کریٹ کے ساحل کے قریب ہفتے کے روز پیش آیا جب ایک ربڑ کی کشتی جس میں تقریباً 20 افراد سوار تھے اچانک الٹ گئی۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق مقامی حکام نے کر دی ہے اور اس سانحے نے دوبارہ سے یورپ میں تارکین وطن کی سفر کی خطرناک صورتحال کو اجاگر کر دیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایک ترک تجارتی جہاز نے حادثے کے بعد جزیرہ کریسی کے جنوب میں 26 میل کے فاصلے پر کشتی کو تلاش کیا۔
اس کشتی میں موجود افراد میں سے دو کو زندہ بچایا گیا جبکہ باقی افراد یا تو ڈوب گئے یا اب بھی لاپتہ ہیں،یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے یہ خطرناک سمندری راستے کس حد تک جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں ہیں، یورپی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس بھی اس میں حصہ لے رہی ہے، جس میں ایک جہاز، ایک طیارہ،ایک ہیلی کاپٹر اور تین تجارتی بحری جہاز شامل ہیں۔
امدادی ٹیمیں ساحل سے دور سمندر میں لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کی کوششیں کر رہی ہیں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں،انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس اور غیر محفوظ راستے اختیار کرنے والے تارکین وطن کی زندگیوں کے لیے یہ خطرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
ایسے واقعات نہ صرف انسانی المیے کو بڑھاتے ہیں بلکہ یورپی ممالک کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔