برآمدہ، سیر گاہ ،دیسی گھی اور مرغے،قیدی یا بادشاہ؟ جیل کے اندر عمران کی شاہانہ زندگی کا سچ منظر عام پرآگیا

برآمدہ، سیر گاہ ،دیسی گھی اور مرغے،قیدی یا بادشاہ؟ جیل کے اندر عمران کی شاہانہ زندگی کا سچ منظر عام پرآگیا

مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں میری اور عمران خان کی چکیوں میں ایک دیوار کا فاصلہ تھا، صحافی ارشاد بھٹی کے ساتھ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے جس حصے میں وہ قیام پذیر تھے، وہاں تین افراد کے پاس تین چکیاں تھیں۔

دیوار کی دوسری طرف عمران خان تھے ان کے پاس چھ چکیاں موجود تھیں ساتھ ہی انہیں مشقتی بھی فراہم کیے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ مجھے کبھی کبھار عمران خان کی آواز سنائی د یتی تھی وہ اپنے مشقتی کے ساتھ گفتگو کرتے تھے عمران خان کی گفتگو زیادہ تر کرکٹ اور کھیلوں کے حوالے سے ہوتی تھی سیاست پر بات چیت نہیں کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب کی جیلوں کے قیدیوں کا عمران خان جیسی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

 انجینئر محمد علی مرزا نے کہا کہ جیل میں عمران خان کو ٹی وی کی سہولت بھی حاصل تھی اور دو اخبار بھی انہیں دئیے جاتےتھے ،محمد علی مرزا نے انکشاف کیا کہ کہ عمران خان کو گوشت فراہم کیا جاتا تھا جسے ان کے مشقتی پکاتے تھے اور مجھے دیسی گھی کے تڑکوں کی خوشبو بھی محسوس ہوتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان روزانہ دو بار کھانا کھاتے تھے، صبح نو بجے ناشتہ اور شام تین بجے لنچ کیا کرتے تھے،انجینئر مرزا نے مزید انکشاف کیا کہ 4 نومبر کے بعد انہوں نے اپنی جگہ تبدیل کردی تھی کیونکہ دوسری جانب دھوپ آتی تھی اس لیے اب وہ وہاں بیٹھتے ہیں ۔

انجینئر محمد علی مرزا کے انکشافات کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف کا یہ بیانیہ کہ عمران خان کو جیل میں کوئی سہولت حاصل نہیں تھی جھوٹ ہے۔
انجینئرمحمد علی مرزا کے مطابق عمران خان کو نہ صرف دیسی گھی میں پکا کھانا دیا جاتا تھا بلکہ انہیں ٹی وی اور اخبار کی سہولیات بھی میسر تھیں۔

اس کے علاوہ ان کے لیے مشقتی بھی موجود تھے جو ان کے روزمرہ کام اور کھانے کی تیاری دیکھتے تھے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں عمران خان کے قیام کے دوران انہیں معقول اور بہتر سہولیات فراہم کی گئیں ہیں ۔

شاہانہ رہائش:

جہاں عام قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ایک کمرے میں نو نو بندوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے  وہاں عمران خان  کے پاس نو (9) کمرے صرف اپنی ذات کے لیے ہیں۔

️   برآمدہ اور سیر گاہ

عمران خان کے پاس اپنا ذاتی برآمدہ ہے جہاں وہ آرام سے دھوپ سینکتے ہیں اور سیر کرتے ہیں، جبکہ باقی قیدی سلاخوں کے پیچھے بند رہتے ہیں۔

دیسی گھی اور مرغے 

“سلو پوزننگ” کا ڈرامہ کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اندر دیسی گھی میں پکے ہوئے مرغے اور اپنی پسند کی بہترین خوراک اڑائی جا رہی ہے۔

️ ملازم اور سہولیات:

نام نہاد تنہائی  کا یہ عالم ہے کہ خدمت کے لیے ملازم (مشقتی) حاضر ہے، ٹی وی کی سہولت موجود ہے اور روزانہ اخبارات بھی فراہم کیے جاتے ہیں

انوکھا لاڈلا پن۔

پروٹوکول کی حد تو یہ ہے کہ ساتھ والے کمرے میں جیل بشپ کو محض اس لیے منتقل کر دیا گیا کہ اس کی کھانسی سے عمران خان کی نیند خراب نہ ہو۔

حقیقت:

یہ ہے وہ “اذیت” جس کا رونا زلفی بخاری اور ان کے پیڈ  یو-این ریپورٹرز پوری دنیا میں رو رہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ قید نہیں بلکہ ٹیکس پیئرز کے پیسے پر ایک پرتعیش رہائش ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *