تحریک انتشار والے جب بھی منہ کھولتے ہیں دہشتگردوں کی سہولت کاری ہی کرتے ہیں،عطاءتارڑ

تحریک انتشار والے جب بھی منہ کھولتے ہیں دہشتگردوں کی سہولت کاری ہی کرتے ہیں،عطاءتارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں صوبائی وزیر اعلیٰ نے افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے شواہد طلب کیے تھے۔ وزیر اطلاعات نے ایکس اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا آج افغان طالبان کے ترجمان کی طرح بات کر رہے تھے۔

عطا اللہ تارڑ نے وزیر اعلیٰ کے بیان کو  انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور شرمناک قرار دیتے ہوئے اسے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انتشار والے جب بھی منہ کھولتے ہیں دہشتگردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا نے افغان طالبان رجیم کی دہشتگردی کی پشت پناہی کے شواہد دیکھ لیے ہیں اور افغانستان کی سرزمین کا دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ناقابل تردید ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کی حالیہ تقاریر جھوٹ اور منافقت کی انتہا ہیں اور وہ پاکستانی قوم کی قربانیوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشتگردوں کے خلاف مقابلے میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہر موقع پر ایسے بیانات سے تحریک انتشار کو تقویت ملتی ہے، جو براہ راست دہشتگردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کے دہشتگردوں سے نرم رویے کی آخر کیا وجہ ہے؟طلال چوہدری

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی ترقی فتنہ خوارج کو کبھی بھی قابل قبول نہیں اور اسی لیے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ہوش کے ناخن لیں اور ایسے بیانات سے باز آئیں جو قوم کی یکجہتی اور سلامتی کے خلاف ہوں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی دہشتگردانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام، سکیورٹی ادارے اور حکومت متحد ہیں اور ہر حال میں دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات ملکی مفاد اور عوامی جذبات کے منافی ہیں اور صوبائی قیادت کو چاہیے کہ وہ بیانات دینے سے پہلے مکمل حقائق پر غور کرے، تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *