بجلی صارفین کے لیے اہم خبر سامنے آ گئی ہے کیونکہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے فی یونٹ بنیادی ٹیرف برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کو ارسال کر دیا ہے،اس فیصلے کے بعد خاص طور پر وہ گھریلو صارفین جو ماہانہ 100 سے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں فوری طور پر کسی نئے مالی بوجھ سے محفوظ رہیں گے۔
نیپرا نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا زیادہ سے زیادہ بنیادی ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ ہی برقرار رکھا جائے گا،اس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کی بنیادی قیمت میں کوئی نیا اضافہ لاگو نہیں ہوگا، جس سے عام صارفین کو وقتی ریلیف ملے گا ،فیصلے کے مطابق پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین، یعنی وہ صارفین جو کم بجلی استعمال کرتے ہیں ان کے لیے ٹیرف پہلے جیسا ہی رکھا گیا ہے۔
ایک سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 10 روپے 54 پیسے ہوگا جبکہ 101 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے یہ ٹیرف 13 روپے ایک پیسہ مقرر کیا گیا ہے۔
یہ طبقہ عموماً کم آمدنی والے گھرانوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے اس فیصلے کو ان کے لیے خاص اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے اسی طرح نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے بھی بنیادی ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ایک سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فی یونٹ بنیادی ٹیرف 22 روپے 44 پیسے جبکہ 101 سے 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 28 روپے 91 پیسے برقرار رکھا گیا ہے۔
نیپرا کے فیصلے میں درمیانے درجے کے صارفین کے لیے بھی تفصیلات شامل کی گئی ہیں 201 سے 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے فی یونٹ ٹیرف 33 روپے 10 پیسے، 301 سے 400 یونٹ کے لیے 37 روپے 99 پیسے مقرر ہے۔
اسی طرح 401 سے 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے فی یونٹ ٹیرف 40 روپے 42 پیسے جبکہ 501 سے 600 یونٹ کے لیے 41 روپے 62 پیسے رکھا گیا ہے، 601 سے 700 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بنیادی ٹیرف 42 روپے 76 پیسے برقرار رہے گا۔
نیپرا کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے ہوگا اور اس کے نتیجے میں ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے فی یونٹ بنیادی قیمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا،حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف بنیادی ٹیرف ہے، جبکہ فیول ایڈجسٹمنٹ، ٹیکسز اور دیگر سرچارجز بجلی کے بلوں پر الگ سے لاگو ہو سکتے ہیں ۔