ملک بھر میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گرمیوں کے آغاز سے قبل ہی سولر پینلز کے نرخوں میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے سولر سسٹم لگوانے کے خواہشمند شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فی واٹ سولر پینل کی قیمت میں 10 روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سولر پینلز کے نرخ 30 روپے فی واٹ سے بڑھ کر 40 روپے فی واٹ تک جا پہنچے ہیں۔ بجلی کے بلند بلوں اور بار بار لوڈ شیڈنگ سے پریشان شہری بڑی تعداد میں متبادل توانائی کے طور پر سولر سسٹمز کی تنصیب کی جانب راغب ہو رہے ہیں، تاہم قیمتوں میں حالیہ اضافے نے مکمل سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی نمایاں فرق ڈال دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایک مکمل سولر سیٹ اپ کی لاگت میں تقریباً دو لاکھ روپے تک اضافہ ہو گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب نسبتاً مہنگی ہو گئی ہے، تاہم اس کے باوجود شہری طویل المدتی فائدے کے پیش نظر سولر توانائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
نظر ثانی شدہ نرخوں کے مطابق 5 کلوواٹ آن گرڈ سولر سسٹم کی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 7 کلوواٹ سولر سسٹم 7 لاکھ 50 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ اسی طرح 10 کلوواٹ آن گرڈ سولر سسٹم کی قیمت 11 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ 12 کلوواٹ سولر سسٹم کی قیمت 12 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ 15 کلوواٹ سولر سسٹم 15 لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔
مزید بتایا جا رہا ہے کہ موسم گرما میں سولر سسٹمز کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان بھی موجود ہے۔ ماہرین صارفین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت خریداری کا فیصلہ کریں تاکہ اضافی اخراجات سے بچا جا سکے۔