آئی ایس ایف کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور پاک فوج حماس کو ڈس آرم کرنے میں شامل نہیں ہوگی، صحافیوں کو اعلی سطحی سیکیورٹی بریفنگ

آئی ایس ایف کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور پاک فوج حماس کو ڈس آرم کرنے میں شامل نہیں ہوگی، صحافیوں کو اعلی سطحی سیکیورٹی بریفنگ

منصور علی خان نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ ان سمیت چالیس کے قریب صحافیوں اور یوٹیوبرز نے اعلی سطحی سیکیورٹی بریفننگ میں شرکت کی جس میں انہیں ملکی و بین الاقوامی سیاسی و سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

منصور علی خان کے مطابق اعلی سطحی سیکیورٹی بریفنگ میں بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ فلسطین میں نسل کشی کی گئی ہے اور اس کا حل دو طریقوں سے نکالا جاسکتا ہے۔ ایک فوجی طاقت سے اور دوسرا مذاکرات سے۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کے عمل میں شریک ہوکر فلسطین کے مسلے کے حل میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ میں بحث کرنا یا نہ کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ ادارے کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

بریفنگ کے دوران واضح کیا گیا کہ پاکستان کی آرمی بورڈ آف پیس کے تحت فلاحی سرگرمیوں میں حصہ ضرور لے گی لیکن حماس کے خلاف ہونے والی کسی کاروائی یا حماس کو ڈس ارم کرنے کی کسی کاروائی کا حصہ نہیں بنے کی۔ بریفنگ کے دوران واضح کیا گیا کہ پاکستان آئی ایس ایف کا حصہ نہیں ہے۔

بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستان کی شمولیت ابھی مستقبل بعید کا معاملہ ہے۔ اگر تو ایسا کوئی فیصلہ ہوا بھی تو اس معاملے پر مکمل یکسوئی ہے کہ یہ فیصلہ حکومت پارلیمنٹ کرے گی، فیصلہ پاکستان کے عالمی اور سفارتی مفادات اور عوامی امنگوں کے مطابق ہوگا۔

اس حوالے سے دو باتیں انتہائی صراحت سے کئی گئی ہیں ۔ اؤل تو یہ کہ پاکستان کوئی ایسا فیصلہ یا عمل نہیں کرے گا جسکا فلسطینی عوام کو نقصان ہو یا اُنکے خلاف ہو، دوسرا یہ کہ پاکستان ایسی کسی بھی مہم کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہو۔

تیراہ میں جاری آپریشن سے متعلق سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اگر طلال چوہدری یہ بات کررہے کہ تیراہ میں آپریشن صوبائی حکومت کی رضامندی سے ہی ہو رہا جس کے جواب میں بتایا گیا کہ اگر طلال چوہدری جو کہ ایک ذمہ دار عہدے پر تعینات ہیں وہ یہ بات کررہے ہیں تو کسی وجہ سے ہی کررہے ہونگے۔ آپ انکی بات کا یقین کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ مستعفیٰ

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کےلئے پولیٹیکل ول کا ہونا ضروری ہے۔ اور ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ جب تک پولیٹیکل ول شامل نہیں ہوگی دہشتگردی ختم نہیں کی جاسکتی ۔ بلوچستان کے اندر دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پولیٹیکل ول کی موجودگی سے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ضروری نہیں ہے کہ اگر ایک ملک کسی دوسرے ملک کے ساتھ معاہدہ کررہا ہے تو وہ ہمارا دشمن بن گیا ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان کا کوئی مفاد متاثر نہیں ہوگا۔

بورڈ آف پیس سے متعلق سوال کے جواب میں مزید یہ بتایا گیا کہ ادارہ مکمل طور پر جمہوریت پر یقین رکھتا ہے اور یہ فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا تھا کہ اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے یا نہیں۔

بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا اس کا فیصلہ بھی حکومت نے کیا تھا اور وہ فیصلہ یہ تھا کہ ہم ماریں گے اور ٹکا کر ماریں گے۔

منصور علی خان نے بتایا کہ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ سب کے ساتھ انگیج ہونا ضروری ہے اور ہر طرح کا نقطہ نظر رکھنے والوں کے سوالات کا جواب دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کی تاریخی بے عزتی، منصور علی خان کا انکشاف

منصور علی خان نے کہا کہ اگر ہر طرح کی سوچ کو انگیج کیا جائے تو سہیل آفریدی کو بھی انگیج کیا جائے اور ان کے سوالات اور خدشات کا جواب دیا جائے جس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ وفاقی حکومت نے کرنا ہے جب بھی وفاقی حکومت فیصلہ کرے گی کہ انہیں کوئی بریفنگ دینی ہے تو ادارہ ضرور انہیں بریفنگ دے گا۔

’’ذہنی مریض ‘‘ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی ہماری فیورٹ جماعت ہے نہ ہی دشمن، لیکن اگر کوئی ہماری سیکیورٹی سے متعلق سوال اٹھائے گا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تمام فیصلے سیاسی قیادت نے کرنے ہیں ۔ ہم انہیں ان پٹ ضرور دیں گے لیکن فیصلہ سیاسی قیادت نے ہی کرنا ہے۔ادارہ پوری طرح جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے خلاف ایک پوری پریس کانفرنس سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی معاملات اور دہشتگردی سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق اختلاف ہے جس کا جواب دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

افغانستان کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ افغانستان ہمارے پڑوسی ہیں اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں کیسے ہینڈل کرنا ہے، 10 اکتوبر کی رات کو جب دہشتگردوں کو ٹارگٹ کرنے کےلئے آپریشن کیا گیا اس کے بعد سے افغانستان کی عقل ٹھکانے آگئی تھی۔ اسی طرح 70 دہشتگردوں کی تشکیل کو نشانہ بنایا گیا تو اس پر افغانستان کی چیخیں نکل گئی تھی اور اس کے بعد دہشتگردوں کے خلاف کئے جانے والے آپریشنز کے بعد انہیں سمجھ آگئی تھی کہ یہ سلسلہ ایسے نہیں چلے گا۔

منصور علی خان کے مطابق بریفنگ میں پی ٹی آئی کے حمایتی صحافی اور یو ٹیوبرز صدیق جان، حبیب اکرم، علینہ شگری، رائے ثاقب کھرل، اطہر کاظمی، اجمل جامی، شہاب الدین، جمیل فاروقی نے بھی شرکت کی۔

منصور علی خان کے مطابق مذکورہ صحافیوں کے علاوہ حامد میر، عاصمہ شیرازی، کرن ناز، گوہر بٹ، رضوان رضی ، مزمل حسین ، مزمل سہروردی، اسد اللہ، سمیت تقریبا چالیس کے قریب صحافی موجود تھے۔

Related Articles