سینئر تجزیہ کار جبار چوہدری نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ریاست مخالف ٹوئٹس کے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے، جو ایک واضح پیغام ہے۔
جبار چوہدری کے مطابق تنقید ہر شہری کا حق ہے، تاہم تنقید کو ریاست مخالف ایجنڈے، تشدد یا دہشت گرد عناصر کی حمایت کے لیے استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ اُن تمام عناصر کے لیے تنبیہ ہے جو کسی بھی پلیٹ فارم پر ریاست مخالف ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یہ کیس گزشتہ پانچ سے چھ ماہ سے زیرِ سماعت تھا، لیکن ملزمان نے عدالت سے تعاون کرنے کے بجائے مسلسل ریاست مخالف رویہ اختیار کیے رکھا۔ ان کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس دوران ریاست مخالف تنظیم بی ایل اے کے نظریے کو فروغ دیتے رہے۔
جبار چوہدری نے مزید کہا کہ تنقید کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تنقید کی آڑ میں ریاست مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزائیں ان تمام عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیہ مزید قابلِ قبول نہیں ہوگا۔