’بلوچستان میں دہشتگردی‘، سلامتی کونسل نے تمام ممالک سے پاکستان کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کردیا، باقاعدہ اعلامیہ جاری

’بلوچستان میں دہشتگردی‘، سلامتی کونسل نے تمام ممالک سے پاکستان کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کردیا، باقاعدہ اعلامیہ جاری

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سفاکانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ کیا ہے اور دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعلامیے میں 31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں ہونے والے حملوں کو ’سفاکانہ اور بزدلانہ‘ قرار دیا گیا، جن کے نتیجے میں 48 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جن میں 31 عام شہری شامل تھے۔ جاں بحق افراد میں 5 خواتین اور 3 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جس نے ان حملوں کی غیر انسانی نوعیت کو مزید نمایاں کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:دُنیا ایک بار پھر خطرناک وبا کی لپیٹ میں آنے والی ہے، یہ مہلک وائرس کیا ہے ماہرین نے بتا دیا

اعلامیے میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی ’بی ایل اے‘ نے قبول کی ہے، جسے پاکستان کی جانب سے بھارت کی پراکسی تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرہ خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔

واضح رہے کہ یہ شدید مذمت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بی ایل اے نے بلوچستان کے تقریباً ایک درجن مختلف مقامات پر بیک وقت بزدلانہ حملے کیے، جن میں 17 سیکیورٹی جوان اور 31 بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔ ان حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے صوبے بھر میں وسیع پیمانے پر انسدادِ دہشتگردی آپریشن کا آغاز کیا، جس کا مقصد دہشتگرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ بتایا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، 3 روزہ بھرپور کارروائی کے دوران صوبے کے 12 مختلف شہروں میں دہشت گردی میں ملوث بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان سے وابستہ 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں، گزشتہ تین دن میں 197 دہشت گرد ہلاک، 22 جوان شہید

سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں اس امر کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔

یو این ایس سی نے تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

بیان میں اس اصول کو بھی دہرایا گیا کہ دہشتگردی کے تمام اقدامات ناقابلِ جواز اور مجرمانہ ہیں، چاہے ان کا مقصد کچھ بھی ہو، وہ کہیں بھی، کسی بھی وقت اور کسی کے ہاتھوں انجام پائیں۔ سلامتی کونسل نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین، بشمول انسانی حقوق، مہاجرین کے قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون، کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *