عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی فوجی سرگرمیاں ایران کو ڈرا نہیں سکتیں ،موجودہ مسائل کا واحد قابلِ عمل حل سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ممکنہ طور پر جنیوا میں امریکی ایلچی سے ملاقات متوقع ہے، جہاں جوہری معاہدے کے حوالے سے پیش رفت پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے کے لیے جوہری مسودے پر کام کر رہا ہے اور تعمیری انداز میں آگے بڑھنے کا خواہاں ہے ،ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس میں کسی قسم کی عسکری جہت شامل نہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اپنی جوہری تجاویز پیش کر دیتا ہے تو جمعہ کے روز امریکا کے ساتھ باضابطہ مذاکرات متوقع ہیں، رپورٹ کے مطابق امریکا جنیوا میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور سفارتی سطح پر پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ممکنہ طور پر جنیوا میں ہونے والی ملاقات آئندہ پیش رفت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔