فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والی طالبہ ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی اندوہناک موت حادثاتی تھی یا خودکشی یا پھر قتل ؟ آزاد ڈیجیٹیل لاہور کے نمائندے ظاہر محمود نے ایک خصوصی رپورٹ مرتب کی ہے آئیے ان کی زبانی جانتے ہیں۔
میں یہ بات سنتے ہی ذرا گھبرا سا گیا مگر ایک توقف کے بعد پوچھا کہ اصل ماجرا کیا ہے؟ دوست نے بتایا کہ ٹی وی پر فریحہ نامی ایک لڑکی کی ہوسٹل کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی اطلاعات آ رہی ہیں، کہیں وہ ہمارے والی فریحہ ہی نہ ہو؟ بات جب دوست کی رشتہ دار کی آئی اور دوست بھی وہ جو خود جائے وقوعہ پہ فوراً پہنچنے کے قابل نہیں تو مجھے فوراً وہاں پہنچ کر اس کی تصدیق کرنا پڑی-
دریں اثنا میں نے کچھ رپورٹر ساتھیوں کو واقعے کی معلومات اکٹھی کرنے کا کہا تو زین بابو نے اس سانحے کا شکار ہونے والی فریحہ کی تصویریں بھیج دیں، دوست سے یہ سُن کر کلیجہ کانپ اُٹھا کہ یہ تصویر تو اس کی کزن کی ہی ہیں، اور اس کا پورا نام فریحہ افراہیم ہے-
فریحہ افراہیم فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، لاہور میں ایم بی بی ایس کے آخری سال کی طالبہ تھی اور آج کل اس کے سالانہ امتحانات چل رہے تھے، فریحہ افراہیم کا تعلق آزاد جموں کشمیر کے علاقے سُدھن گلہ ملوٹ سے تھا جبکہ اس کے والد کچھ ہی عرصہ پہلے اپنی ملازمت سے فراغت پا کر آزاد کشمیر جا بسے تھے، فریحہ کی والدہ بطور نرس انسانیت کی خدمت میں صبح شام محو رہتی ہیں، دونوں ماں باپ نے بڑی محنت سے اپنی ساری جمع پونجی لگا کر اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا خواب پورا کرنے کا کشٹ کاٹ رکھا تھا۔
دوست نے مزید بتایا کہ ٹی وی پر اس کے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی خبریں گرم ہیں مگر اس واقعہ کا جو وقت بتایا جا رہا ہے، اس سے محض آدھا گھنٹا پہلے فریحہ نے اپنی والدہ سے بات چیت کی، یہاں تک کہ اس نے اپنے پیپر کے بارے میں بتایا اور بھوک کا تذکرہ کیا تو کال کٹنے کے فوراً بعد کھانے کی طرف مشغول ہو گئی ہو گی تو یہ واقعہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اُدھر میں فوراً گنگا رام ہسپتال پہنچا، ساتھ تابش بٹ صاحب تھے، جنھوں نے سب سے پہلے اس وقوعہ کی بریکنگ دی تھی، ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل ہوتے ہی وہاں کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ملے، اُن سے فریحہ کی بابت پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ فریحہ دم توڑ چکی ہے، اسے آئی سی یو میں رکھا ہے اور صوبائی وزیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق ہسپتال میں اسی واقعے کی جانچ پڑتال کے لیے موجود ہیں-
ہم نے فوراً اگلا سوال داغا کہ یہ کیا ہوا؟ اور کیوں ہوا؟ تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے فی الوقت یہ بتایا ہے کہ بچی کا آج کا پیپر ٹھیک نہیں ہوا تھا اس لیے اس نے مایوسی اور بے چینی میں اپنی جان لے لی، نیز یہ کہ اس کے لواحقین کو مطلع کر دیا گیا ہے-
میں نے فوراً بریکنگ دی، جتنی میسر معلومات تھیں، سب بول دیں، اگلے دن معلوم ہوا کہ جب لواحقین بچی کی نعش لینے پہنچے تو پولیس نے اس سارے وقوعہ کو قتل کا نام دے دیا ، مزید یہ کہ لواحقین نے فریحہ کا پوسٹمارٹم کروانے کے بعد آزاد کشمیر کا رستہ ناپا-
اُدھر سدھن گلہ ملوٹ، آزاد کشمیر میں قیامتِ صغری کا سماں تھا، وہ ماں جس نے بڑی حسرت سے اپنی ذہین بیٹی کے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے ایک عمر کاٹ دی تھی، نڈھال تھی- کشمیر کے دورافتادہ پہاڑی علاقے کا باپ اپنی جواں سالہ بیٹی کو سٹیتھوسکوپ اُٹھائے سفید کوٹ میں مسکراتے دیکھنے کی بجائے اس کا جنازہ اپنے نحیف کندھوں پہ لیے جا رہا تھا-
نہ صرف خاندان پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا بلکہ اہلیانِ علاقہ کی ٹی وی پر دی گئی ابتدائی خبروں سے کشید کردہ طرح طرح کہ باتیں جلتی پر تیل چھڑک رہی تھیں، دنیا جو مرضی کہتی پِھرے مگر فریحہ کے والد اور والدہ کو کسی پَل چین نہیں آ رہا تھا کہ اُن کی بیٹی جس نے اپنے علاقے میں اپنی ذہانت کا لوہا منوایا اور پھر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی جیسے ہائی میرٹ ادارے میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا، وہ کیسے ایک پیپر اچھا نہ ہونے سے اس قدر مایوس ہو گی کہ دنیا چھوڑ جائے گی-
پھر کچھ ہی سمے پہلے گھر والوں سے اُس نے جس انداز میں بات کی تھی، اُس لہجے کی حلاوت بھی ان کے ذہنوں میں رچی بَسی ہوئی تھی ، سونے پہ سہاگا یہ ہوا کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود نے بھی یہ کہہ دیا کہ فریحہ ایک قابل اور ذہین لڑکی تھی اور اُن کی صاحبزادی کی ہم جماعت تھی، بلکہ اُن کی بیٹی کو کلاس ورک میں مدد بھی فراہم کرتی تھی-
واقعے کو دو تین دن گزر گئے مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کیس پر کسی قسم کی پیشرفت نہیں دکھائی، ایک دو تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں اور یہ بیان بھی جاری کر دیا گیا کہ فریحہ کے لواحقین نے کسی قسم کی قانونی کارروائی سے جامعہ کو منع کر دیا ہے۔
یہ بات سُنتے ہی فریحہ کے والد اور دیگر لواحقین تڑپ اُٹھے، ایک طرف جواں بیٹی کا سانحہ، پھر اُس پہ شدید قسم کا الزام اور اُلٹا اس کی شفاف تحقیقات کرنے کی بجائے یونیورسٹی انتظامیہ کی اس قدر سرد مہری سامنے آئی- اسی لیے انھوں نے ان کمیٹیوں کا بائیکاٹ بھی کر دیا، فریحہ کے لواحقین نے سدھن گلہ ملوٹ میں باقاعدہ احتجاج کیا کہ اُن کی بیٹی کے ساتھ جو سانحہ پیش آیا ہے، اُس کی شفاف تحقیقات سامنے لائی جائیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ اس لیے بھی قصوروار ٹھہرائی گئی کہ تادمِ تحریر فریحہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی- لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر بچی نے خود چھلانگ لگائی ہے تو نیچے گِرتے ہی ماتھے پر نشان ہونا چاہیے تھا مگر دراصل وہ پھٹنے کا نشان تو سر کی پچھلی طرف ہے، مزید یہ کہ اُنھوں نے تو یونیورسٹی انتظامیہ کو قانونی کارروائی نہ کرنے کا ہر گز نہیں کہا۔
میں نے یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے وائس چانسلر کے پی اے حافظ احمد صاحب سے رابطہ کیا ، اُن سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ کیا لڑکیوں کے ہاسٹل میں لگے سی سی ٹی وی کیمرا کی فوٹیج نہیں دیکھی گئی کہ اصل ماجرا کیا ہوا ہے؟ تو اُنھوں نے رَٹا رَٹایا جواب دیا کہ وہ ساری فوٹیجز قانون نافذ کرنے والے ادارے لے گئے ہیں اور اس بابت وہی کچھ بھی بتا سکتے ہیں، جس پر میں نے استفسار کیا کہ گویا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے؟ تو اس پہ پھر وہی جواب دہرایا گیا، کل میں نے ہاسٹل جا کر خود دیکھا کہ وہاں باہر دروازے پر تو کیمرے لگے ہیں، یقیناً اندر بھی سکیورٹی کے لیے کیمرے لگے ہوں گے۔
میں نے مزید پوچھا کہ پوسٹ مارٹم والدین کے آنے کے بعد ہوا یا پہلے ؟ تو گول مول جواب ملا، رپورٹ آنے کا پوچھا تو کہا گیا جلد آ جائے گی، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کسی بیان جاری کرنے کے حوالے سے پوچھا تو بتایا گیا معاملہ تھانہ مزنگ پولیس کے پاس پہنچ چکا ہے وہی دیکھیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال لواحقین کو پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کیوں نہیں کی؟ جس سے یہ اندازہ ہو کہ بچی نے خود چھلانگ لگائی یا اسے کسی نے دھکا دیا یا چکر آنے سے گِری؟ بالفرض چکر آنے سے گِری تو بھی یونیورسٹی انتظامیہ اس سانحے کی ذمہ دار ہے کہ انھوں نے چھت یا متعلقہ فلور پر فصیل یا حفاظتی دیوار کیوں نہیں بنوائی تھی؟ ۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں سامنے نہیں لا رہے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو؟
مندرجہ بالا حالات و واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فریحہ کسی طور اپنی جان خود نہیں لے سکتی تھی تو بصورتِ دیگر یونیورسٹی انتظامیہ پوسٹ مارٹم رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور اس روز جائے وقوعہ پر موجود دیگر عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کر کے اصل وقوعہ کو منظرِ عام پر لانے سے کیوں روک رہی ہے؟
تاہم 21 فروری کو یونیورسٹی کے سوشل میڈیا پیج پر ایک نئی 9 رکنی کمیٹی کے تشکیل دیے جانے کا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو شامل کیا گیا جن کی پہلی میٹنگ 24 فروری بروز منگل ہو گی اور اس کمیٹی کو ایک ہفتے میں ابتدائی تحقیقات سامنے لانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
فریحہ افراہیم کے لواحقین مضطرب ہیں، سدھن گلہ ملوٹ میں احجاج کر چکے ہیں کہ ان کی بچی کے معاملے کی شفاف تحقیقات جلد از جلد سامنے لائی جائیں تا کہ انھیں یہ علم ہو کہ اُن کی بچی کو مارا گیا ہے یا یہ سب حادثاتی طور پر ہوا اور اگر حادثاتی طور پر ہوا ہے تو آئندہ کسی کی بچی کے ساتھ ایسا نہ ہو، اُنھوں نے اگلے مرحلے میں لاہور میں آ کر احتجاج کرنے کی کال بھی دے دی ہے تاحال انھیں پوسٹ مارٹم رپورٹ دی گئی ہے نہ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج۔