بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گیا ہے اور امریکی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہا ہے، جبکہ امریکی سفیر سرجیو گور اور امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل سیموئل جے پاپارو کے دورے نے بھارتی فوج کے ویسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں حساس آپریشنل معلومات تک رسائی کا موقع فراہم کیا۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی وفد نے بھارتی فوج کی آپریشنل تیاریوں اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بھارتی میڈیا کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ناکام اے آئی سمٹ سے توجہ ہٹائی جا سکے اور امریکی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی خارجہ پالیسی دعووں کے باوجود امریکی مفادات کے آگے مکمل طور پر سرنگوں ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان کی مؤثر ملٹری ڈپلومیسی اور فیلڈ مارشل کی عالمی سطح پر پذیرائی نے بھارت کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فرانسیسی صدر کے دورے کو نظر انداز کر کے امریکی سفیر کی میڈیا میں تشہیر بھارت کی امریکی توجہ حاصل کرنے کی واضح حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔
بھارتی میڈیا میں امریکی سفیر کے دورے کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک آپٹکس ہے جس کا مقصد داخلی سطح پر عوامی حمایت اور بین الاقوامی سطح پر امریکی نظر میں اپنی اہمیت بڑھانا ہے۔ تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ بھارت کی سفارت کاری معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد کمزور ہو چکی ہے اور اسے عالمی میدان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قیمت پر امریکی توجہ کی ضرورت ہے۔
سیاست اور دفاع کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اس بے چینی کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی عالمی سطح پر مضبوط فوجی اور سفارتی حکمت عملی ہے، جس نے بھارت کو علاقائی اور عالمی سطح پر پس منظر میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کی کوششیں صرف وقتی توجہ حاصل کرنے کی ہیں، لیکن عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور پالیسی کے اثرات محدود رہیں گے۔
واضح رہے کہ اس موقع پر امریکی وفد کی حساس فوجی تنصیبات کا دورہ اور میڈیا میں اس کی تشہیر بھارت کی داخلی اور خارجی پالیسی میں موجود مشکلات کو مزید اجاگر کرتی ہے، جبکہ پاکستان کے عالمی کردار نے بھارت کی محدود سفارتی کوششوں کو بے اثر کر دیا ہے۔