اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج شروع ہو رہے ہیں، جنہیں وزیرِاعظم شہباز شریف نے دیرپا جنگ بندی کے لیے ایک ’کٹھن مگر فیصلہ کن مرحلہ‘ قرار دیا ہے۔ پاکستان اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ وفد نور خان ایئر بیس پہنچا جہاں ان کا استقبال اسحاق ڈار اور عاصم منیر نے کیا۔
دوسری جانب امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی برقرار ہے اور ماضی کی دو کوششیں جنگ کے باعث ناکام ہو چکی ہیں۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس
جے ڈی وینس 1984 میں اوہائیو کے شہر مڈل ٹاؤن میں پیدا ہوئے اور ایک عام پس منظر سے اٹھ کر امریکی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
انہوں نے 2022 میں ریپبلکن پارٹی سے سیاست کا آغاز کیا، تاہم اس سے قبل وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد تھے اور ’نیور ٹرمپ‘ مہم کا حصہ رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ٹرمپ سے معافی مانگ کر ان کی حمایت حاصل کی اور تیزی سے پارٹی میں اہم مقام بنا لیا۔
وینس کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایران کے معاملے پر بریفنگ دینے کے لیے بارہا آگے لایا گیا، جس سے ان کی پالیسی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان کا نسبتاً نرم اور متوازن انداز انہیں ایران کے لیے قابلِ قبول بناتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر امریکی رہنما سخت بیانات دے رہے تھے۔
اسٹیو وٹکوف
68 سالہ سٹیو وٹکوف صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ’گالف پارٹنر‘کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ نیویارک میں رئیل اسٹیٹ کے بڑے کاروباری رہے اور اسی دوران ان کی ٹرمپ سے دوستی ہوئی۔
وٹکوف نے فروری میں جنیوا میں ہونے والے امریکا، ایران مذاکرات میں شرکت کی، جو بعد میں ناکام ہو گئے۔ اس کے علاوہ وہ ابو ظہبی میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں بھی شامل رہے، جہاں 157 قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیچیدہ تنازعات میں براہِ راست اور عملی انداز اپناتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جیرڈ کشنر
جیرڈ کشنر 1981 میں نیو جرسی میں پیدا ہوئے اور ایک بااثر رئیل اسٹیٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 25 سال کی عمر میں اپنے والد کے بعد خاندانی کاروبار سنبھالا اور اسے وسعت دی، جبکہ 2006 میں ’نیویارک آبزرور‘ اخبار بھی خریدا۔
وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم کے مرکزی معماروں میں شامل تھے اور بعد میں وائٹ ہاؤس میں اہم مشیر رہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ان کا کردار خاص طور پر ’ابراہم اکارڈ‘ میں نمایاں رہا، جس کے تحت کئی عرب ممالک نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے۔ تاہم ایران کے ساتھ سابق مذاکرات کی ناکامی کے باعث ان پر مکمل اعتماد نہیں کیا جاتا، اسی لیے اس بار ان کا کردار نسبتاً محدود سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی اسپیکرمحمد باقر قالیباف
64 سالہ قالیباف ایک طاقتور سیاسی و عسکری شخصیت ہیں جن کا تعلق پاسدارانِ انقلاب سے رہا ہے۔ انہوں نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران، عراق جنگ میں حصہ لیا اور کم عمری میں ہی فوجی کمانڈر بن گئے۔ بعد ازاں وہ آئی آر جی سی ایئر فورس کے سربراہ بھی رہے۔
انہیں 39 سال کی عمر میں پولیس چیف بنایا گیا، جبکہ 2005 میں سیاست میں آنے کے بعد وہ تہران کے میئر منتخب ہوئے اور 12 سال تک اس عہدے پر فائز رہے، یہ ایک ریکارڈ ہے۔
انہوں نے کئی بار صدارتی انتخابات میں حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہو سکے، تاہم 2020 میں پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے اور 2024 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔
واضح رہے کہ وہ ایران میں طاقت کے مختلف مراکز، فوج، سیاست اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی لیے مذاکرات میں ان کی موجودگی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
عباس عراقچی 1962 میں تہران میں پیدا ہوئے اور 1979 میں پاسدارانِ انقلاب میں شامل ہو کر ایران، عراق جنگ میں حصہ لیا۔
بعد ازاں انہوں نے سفارتی میدان میں قدم رکھا اور پی ایچ ڈی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فن لینڈ، اسٹونیا اور جاپان میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ 2000 کی دہائی سے ایران کے جوہری مذاکرات کا اہم حصہ رہے اور 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جہاں وہ محمد جواد ظریف کی ٹیم میں شامل تھے۔
مغربی دنیا میں انہیں ایک ’نرم گو مگر سخت گیر‘ مذاکرات کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 2024 میں مسعود پزشکیان کی حکومت میں وزیر خارجہ بننے کے بعد وہ عالمی سطح پر ، خاص طور پر حالیہ تنازع کے دوران ایران کا اہم چہرہ بن کر سامنے آئے۔
ان مذاکرات میں شامل شخصیات کا انتخاب واضح طور پر سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ امریکا نے ایک نسبتاً نرم اور قابلِ قبول چہرے کو آگے کیا، جبکہ ایران نے ایک بااختیار اور سسٹم کے اندر مضبوط اثر رکھنے والے رہنما (قالیباف) کو چنا
اسی طرح عراقچی جیسے تجربہ کار سفارتکار اور وٹکوف جیسے عملی مذاکرات کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق اس بار کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔