نیا بجٹ : کیا سولر سسٹم اور الیکٹرک ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

نیا بجٹ : کیا سولر سسٹم اور الیکٹرک ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

آنے والے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کے باعث سولر پینلز، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک بھر میں ہزاروں خاندان بجلی کے بڑھتے بلوں سے بچنے کے لیے سولر سسٹمز کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ ایندھن کی مہنگی قیمتوں نے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی عوام کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے.

تاہم آئندہ بجٹ سے قبل سامنے آنے والی ٹیکس تجاویز نے صارفین، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے،  یہ تجاویز منظور ہو گئیں تو نہ صرف سولر پینلز بلکہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے دوران مختلف ٹیکس اقدامات پر غور کیا جا رہا ہےان تجاویز میں سب سے زیادہ توجہ سولر پینلز اور ماحول دوست گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں اضافے کی تجویز نے حاصل کی ہے،  آئی ایم ایف نے مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار کیا ہے،  اسی تناظر میں الیکٹرک گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد ٹیکس کو بھی 8 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک لے جانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو نئی گاڑی خریدنے کے خواہش مند افراد کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سولر انرجی بھی مہنگی ہو نے کا امکان

مجوزہ پلان کے تحت سولر پینلز پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس ممکنہ اضافے کے بعد گھریلو اور کمرشل سولر منصوبوں کی لاگت میں واضح اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں :حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سولر سسٹمز نے شہریوں کو بجلی کے بھاری بلوں سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ٹیکس میں اضافے کی صورت میں نئے صارفین کے لیے سولر توانائی اختیار کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

کن گاڑیوں کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں؟

ٹیکس تجاویز کے نتیجے میں الیکٹرک کاریں، موٹر سائیکلیں، رکشے، ٹرک اور بسیں مہنگی ہو سکتی ہیں،  اس کے علاوہ الیکٹرک پک اپ، ٹریکٹر اور ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی اضافی ٹیکس عائد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی جانب منتقل ہونے کا عمل سست پڑ سکتا ہے،  دوسری جانب خریدار بھی گاڑی خریدنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔

ٹیکسٹائل صنعتوں کا مطالبہ

دوسری جانب ٹیکسٹائل صنعت نے حکومت سے 327 ارب روپے کے زیر التوا ری فنڈز فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،  صنعتکاروں کا مؤقف ہے کہ ری فنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ صنعتی حلقوں نے ٹیکسوں، بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے ، اگر حکومت برآمدی شعبے کے لیے ریلیف پیکیج متعارف کراتی ہے تو برآمد کنندگان کو تقریباً 100 ارب روپے تک کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

عوام اور مارکیٹ کی نظریں بجٹ پر

حتمی فیصلے کا انحصار وفاقی بجٹ کے اعلان پر ہوگا، تاہم موجودہ تجاویز نے پہلے ہی مارکیٹ میں بحث چھیڑ دی ہے ،  سولر صارفین، گاڑی خریداروں اور صنعتی شعبے سمیت مختلف حلقے اس انتظار میں ہیں کہ حکومت عوامی سہولت اور ریونیو اہداف کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔

اگر ٹیکسوں میں مجوزہ اضافہ نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف صارفین بلکہ ملک میں گرین انرجی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles