امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے نئے حملوں سے گریز ایران کی عسکری قوت اور قومی اتحاد کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے اس لیے گریز کیا کیونکہ واشنگٹن کو ایران کے ممکنہ سخت ردعمل کا بخوبی اندازہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران پر کوئی نیا حملہ کیا گیا تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور پوری ایرانی قوم متحد ہوکر مقابلہ کرے گی۔
ایرانی رہنما نے سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر جاری بیان میں مزید کہا کہ صدر ٹرمپ جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئدوسری جانب صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران پر مجوزہ امریکی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔ ان کے مطابق سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے بھی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل نکالنے پر زور دیا تھا۔ی کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، اسی لیے امریکا نے وقتی طور پر سفارتی راستہ اختیار کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے ردعمل میں ایران گزشتہ اڑھائی ماہ سے آبنائے ہرمز کو بند کیے ہوئے ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت پیدا ہوچکی ہے جبکہ خام تیل کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔