امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلیا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا اسی لیے ایران کو یہ ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا اور امریکا آئندہ 2 سے 3 روز میں ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے بال روم کی تعمیراتی جگہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آگیا تو سوال صرف یہ ہوگا کہ وہ اسے پہلے منٹ، پہلے گھنٹے یا پہلے دن استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیل کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگائے گا اس لیے امریکا کے پاس وقت بہت کم ہے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ کارروائی جمعے، ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں بھی ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ پیر کے روز ایران پر حملہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے تاہم بعض ممالک کی درخواست پر کارروائی مؤخر کردی گئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو موقع دینے کی اپیل کی تھی جس کے بعد امریکا نے فوری حملہ روک دیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے جوہری پروگرام جاری رکھا تو امریکا سخت قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔