امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں

امریکا اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایران پر عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی گھیرا تنگ کرنے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ نے نئی سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

کرپٹو ایکسچینجز اور شہریوں پر پابندیاں

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان کے مطابق ایران کے 4 شہریوں اور 4 اہم کرپٹو ایکسچینجز پر فوری طور پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان ڈیجیٹل ذرائع کو ایران کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی نظام کو بائی پاس کرنے اور عسکری سرگرمیوں کے لیے فنڈز کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو امریکا سے مذاکرات روک دینگے، ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا انتباہ

امریکی حکومت نے دنیا بھر کے مالیاتی اداروں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان بلیک لسٹڈ کمپنیوں اور افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، بینک اور عام افراد خود بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں اور انہیں عالمی بینکنگ سسٹم سے الگ کیا جا سکتا ہے‘۔

جزیرہ قشم اور ففتھ فلیٹ پر حملے

معاشی پابندیوں کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین عسکری محاذ بھی گرم ہو چکا ہے۔ امریکی فورسز نے ایرانی جزیرے ‘قشم’ میں واقع ایک اہم ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔

اس امریکی حملے کے جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکی مفادات پر بڑے پیمانے پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ (پانچویں بیڑے) کے ہیڈکوارٹر، ایک امریکی ایئربیس، بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کو اپنے جدید ترین میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

ان شدید حملوں کے فوری بعد بحرین، عراق اور قطر میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور شہروں میں ہنگامی صورتحال کے سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

یہ صورتحال یہاں تک کیسے پہنچی؟

امریکا اور ایران کے تعلقات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم حالیہ سالوں میں ایران کے جوہری پروگرام، مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خلیج عرب میں جہاز رانی کے تحفظ کے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان خلیج بہت وسیع ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران امریکا جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا،بلاول بھٹو

جزیرہ ’قشم‘ آبنائے ہرمز میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹجک مقام ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ یہاں ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنانا امریکا کی طرف سے ایران کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ایرانی بالادستی قبول نہیں کرے گا۔

خطے پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

امریکا اب روایتی بینکنگ کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی کے نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ایران کے پوشیدہ مالیاتی ذرائع کو مکمل طور پر بلاک کیا جا سکے۔ اس سے ایران کی معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا۔

علاقائی جنگ کا خطرہ

بحرین، قطر اور عراق میں سائرن بجنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ جنگ اب صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں دیگر خلیجی ممالک بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

عالمی معیشت اور تیل کی قیمتیں

آبنائے ہرمز کے قریب فوجی تصادم کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک نیا بحران پیدا کر سکتا ہے۔

Related Articles