ایران کا سرکاری سطح پر پہلی بار علی خامنہ ای کی تدفین کا اعلان،شیڈول میں اہم تفصیلات آ گئیں

ایران کا سرکاری سطح پر  پہلی بار علی خامنہ ای کی تدفین کا اعلان،شیڈول میں اہم تفصیلات آ گئیں

ایرانی حکام نے شہید رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تین روزہ سرکاری تدفین اور قومی سوگ کی تقریبات کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تدفینی تقریبات نہ صرف دارالحکومت تہران بلکہ مقدس شہروں قم اور مشہد میں بھی منعقد ہوں گی جہاں لاکھوں عقیدت مندوں اور سرکاری شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

تہران کے نائب میئر کے مطابق تدفینی تقریبات کے انتظامات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور حکومت مختلف ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولیات کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریبات ممکنہ طور پر ماہِ محرم کے آغاز کے ساتھ منعقد کی جائیں گی جس کے باعث ان ایام کو خصوصی مذہبی اور قومی اہمیت حاصل ہو جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں ایران بھر سے عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی ۔جنازہ میں مختلف ممالک کے سیاسی، مذہبی اور سفارتی نمائندوں کو بھی مدعو کیے جانے کا امکان ہے۔ ایرانی حکام  کا دعویٰ ہے کہ عوامی جنازے میں دو کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے جس کی صورت میں یہ دنیا کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا

ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای جنہوں نے تقریباً 37 برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی 28 فروری کو تہران کے وسطی علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم رہی جبکہ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات اور دعائیہ تقریبات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

 آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات نہ صرف مذہبی اور قومی اہمیت کی حامل ہوں گی بلکہ ایران کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم باب کے اختتام کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی انتظامات اور رہنمائی جلد فراہم کی جائے گی۔

editor

Related Articles