حکومت پر دباؤ بڑھانے کی تیاری، پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر نئے دھرنے کا اعلان کر دیا

حکومت پر دباؤ بڑھانے کی تیاری، پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر نئے دھرنے کا اعلان کر دیا

پاکستان تحریک انصاف نے 10 جون کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے اور وفاقی بجٹ کے موقع پر بھرپور احتجاج کا اعلان کر دیا ہے تاہم پارٹی کے اندر موجود اختلافات اب بھی ختم نہیں ہو سکے اور احتجاجی حکمت عملی پر قیادت مختلف آراء رکھتی دکھائی دے رہی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر پارٹی قیادت اور صوبائی حکومت کو مزید دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے وفاقی بجٹ کی منظوری کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا عندیہ بھی دیا۔

سیاسی حلقوں کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر احتجاجی سیاست کے اگلے مرحلے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ پارٹی کے بعض ارکان اور رہنما اس وقت پارلیمانی اور قانونی راستے کو ترجیح دینے کے حامی ہیں جبکہ ایک گروپ سمجھتا ہے کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنا ضروری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی مسلسل سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کی بعض حکمت عملیوں پر مرکزی قیادت کے اندر بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات کی خبریں وقفے وقفے سے سامنے آتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اراکینِ پارلیمنٹ کے اہل خانہ اور ملازمین کے لیے نئی رہائش گاہیں، بجٹ میں کتنے ارب رکھنے کی تجویز؟ حیران کن اعدادوشمار

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر خزانہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے نئی درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست کا مقصد صوبائی بجٹ کی تیاری سے قبل عمران خان سے مشاورت حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے تاہم اس معاملے پر بھی پارٹی کے تمام حلقے یکساں مؤقف نہیں رکھتے۔

خیبر پختونخوا کی قیادت کے حالیہ اقدامات سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ صوبائی حکومت آئندہ دنوں میں مزاحمتی سیاست کے زیادہ فعال مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے جبکہ مرکزی قیادت بیک وقت قانونی، سیاسی اور پارلیمانی آپشنز کو بھی کھلا رکھنا چاہتی ہے۔

ادھر بیرسٹر گوہر اور دیگر مرکزی رہنما مسلسل پارٹی اتحاد پر زور دے رہے ہیں تاہم 10 جون کے مجوزہ دھرنے اور بجٹ کے معاملے پر آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی اندرونی صف بندی مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

editor

Related Articles