اراکینِ پارلیمنٹ کے اہل خانہ اور ملازمین کے لیے نئی رہائش گاہیں، بجٹ میں کتنے ارب رکھنے کی تجویز؟ حیران کن اعدادوشمار

اراکینِ پارلیمنٹ کے اہل خانہ اور ملازمین  کے لیے نئی رہائش گاہیں، بجٹ میں کتنے ارب رکھنے کی تجویز؟ حیران کن اعدادوشمار

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اراکینِ پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے لیے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے اس منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال کے دوران ڈیڑھ ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر جی-5/2 میں پارلیمنٹ لاجز سے متصل جدید رہائشی کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے اضافی فیملی سوٹس اور 500 سرونٹ کوارٹرز شامل ہوں گے۔ حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد پارلیمنٹیرینز اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ 30 جون 2026 تک اس پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ منصوبہ متعدد مراحل میں مکمل کیا جا رہا ہے اور اس وقت تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ تاخیر کا شکار کیوں ہوا؟ اصل وجہ سامنے آگئی

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز کے ساتھ تعمیر ہونے والی نئی رہائش گاہوں میں 104 جدید فیملی سوٹس شامل ہیں جن کی تعمیر کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ فنشنگ اور دیگر تکمیلی کام جاری ہیں۔ یہ منصوبہ چار الگ بلاکس پر مشتمل ہے جن میں رہائشی سہولیات کے ساتھ دیگر ضروری انتظامات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال میں منصوبے کی تکمیل کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ زیر تعمیر رہائش گاہوں کو جلد از جلد قابل استعمال بنایا جا سکے۔ دوسری جانب معاشی دباؤ اور عوامی مسائل کے تناظر میں اس منصوبے کے لیے مختص فنڈز پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث بھی متوقع ہے۔

حتمی منظوری وفاقی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد دی جائے گی جس کے بعد منصوبے کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

editor

Related Articles