خبردار: انرجی ڈرنکس ریڈ بُل ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے؟

خبردار: انرجی ڈرنکس  ریڈ بُل ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے؟

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں انرجی ڈرنکس کے صحت پر ممکنہ مضر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے دعویٰ کیا کہ ریڈ بُل کے استعمال سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے ریڈ بُل پینے کے بعد طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ انہوں نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے زیادہ کیفین اور چینی پر مشتمل مشروبات کی سخت نگرانی کا مطالبہ کیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے بچوں اور نوجوانوں میں انرجی ڈرنکس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ مشروبات تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بعض آسانی سے دستیاب شربتوں کے ساتھ انرجی ڈرنکس ملانے سے نشہ آور اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، جس پر ارکان نے مزید سائنسی جائزے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران کیساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا بڑا اعلان کر دیا

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ چینی کا زیادہ استعمال بچوں میں ذیابیطس اور غیر صحت بخش غذائی عادات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 19 مئی 2025 کو انہوں نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری فوڈ سیفٹی (ترمیمی) بل 2025 سینیٹ میں پیش کیا تھا۔

مجوزہ بل میں اسلام آباد میں خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے لیے زیادہ چینی اور کیفین والے مشروبات کی فروخت اور استعمال کو ضابطے میں لانے، صحت بخش متبادل کو فروغ دینے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری فوڈ سیفٹی ایکٹ 2021 پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔

اجلاس میں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ بل کی بعض شقیں موجودہ قوانین سے مطابقت رکھتی ہیں، اس لیے نئی قانون سازی کے بجائے موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری ترامیم کی جا سکتی ہیں تاکہ قوانین میں غیر ضروری دہراؤ سے بچا جا سکے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر کامل علی آغا نے متعلقہ اداروں کو ہدای کی کہ انرجی ڈرنکس میں استعمال ہونے والے اجزا اور ان کے ممکنہ صحت پر اثرات سے متعلق تفصیلی سائنسی بریفنگ پیش کی جائے، تاکہ کمیٹی انرجی ڈرنکس اور زیادہ چینی و کیفین والے دیگر مشروبات کے حوالے سے ممکنہ ریگولیٹری اقدامات پر غور کر سکے۔

Related Articles