پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ موبائل فونز پر عائد 60 فیصد ٹیکس انتہائی زیادہ ہے، جبکہ پی ٹی اے ہر سال حکومت کو موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کی سفارشات پیش کرتا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے پی ٹی اے چیئرمین نے واضح کیا کہ موبائل فونز پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکسز پی ٹی اے نافذ نہیں کرتا۔ ان کے مطابق ادارے کا کردار صرف ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے تحت موبائل فونز کی رجسٹریشن اور وائٹ لسٹنگ تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کے پاس ہر موبائل فون پر عائد ٹیکس کی تفصیلات بھی موجود نہیں ہوتیں۔
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے کہا کہ اسمارٹ فون اب تعیش کی چیز نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی ضرورت بن چکا ہے، تاہم موجودہ ٹیکسوں کی وجہ سے اسمارٹ فونز کی قیمتیں غیر ضروری طور پر بڑھ گئی ہیں۔
پی ٹی اے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے نے پاکستان میں موبائل فونز کی تیاری یا اسمبلنگ کے لیے 37 کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق سالانہ تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر اسمبل کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد ہینڈ سیٹس درآمد کیے جاتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایپل آئی فون اور گوگل پکسل جیسے پریمیئم اسمارٹ فونز درآمد کیے جاتے ہیں، جن پر نسبتاً زیادہ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔
اس موقع پر سید امین الحق نے کہا کہ اگر نوکیا اور سام سنگ جیسی عالمی کمپنیاں پاکستان میں کامیابی سے کام کر سکتی ہیں تو ایپل جیسی کمپنیوں کو بھی ملک میں موبائل فونز کی اسمبلنگ شروع کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔