سینئر پاکستانی اداکار فیصل قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی اثر و رسوخ کی وجہ سے پاکستانی مواد کو نیٹ فلکس پر مناسب جگہ نہیں مل رہی۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ان کے خیال میں پاکستانی مواد نیٹ فلکس پر کب نظر آئے گا۔اس پر فیصل قریشی نے کہا، ’’سچ کہوں تو بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستانی مواد نیٹ فلکس پر آئے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نیٹ فلکس ایسے مواد کو ترجیح دیتا ہے جو کسی بھی ملک کے معاشرے کے مثبت اور منفی دونوں پہلو حقیقت کے مطابق پیش کرے، تاہم پاکستان میں فلم ساز ہر موضوع پر کھل کر کام نہیں کر سکتے۔
فیصل قریشی کے مطابق اگر کوئی فلم ساز ملک کی مکمل اور غیر جانبدار تصویر پیش کرے تو بعد میں اس کے لیے پاکستان میں کام کرنا یا رہنا مشکل ہو سکتا ہے، اسی وجہ سے کئی موضوعات پر کھل کر اظہار نہیں ہو پاتا۔
اداکار نے پاکستانی مواد کی محدود موجودگی کی ایک اور وجہ نیٹ فلکس کے لیے پاکستان کی نسبتاً چھوٹی تجارتی مارکیٹ کو قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت سے صارفین اپنی الگ سبسکرپشن خریدنے کے بجائے دوستوں یا بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایک ہی سبسکرپشن کئی افراد کے درمیان بھی شیئر کی جاتی ہے۔
فیصل قریشی کے مطابق اس رجحان کی وجہ سے نیٹ فلکس کو پاکستان سے وہ مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو بھارت جیسے بڑے اور منافع بخش مارکیٹ سے ملتا ہے۔