گورنر ہاؤس کے پی پر پی ٹی آئی کے قبضے سے متعلق افغان پروپیگنڈا بے نقاب، ویڈیو نيپال کی نکلی

گورنر ہاؤس کے پی پر پی ٹی آئی کے قبضے سے متعلق افغان  پروپیگنڈا بے نقاب، ویڈیو نيپال کی نکلی

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں معمولاتِ زندگی کی بحالی اور امن و امان قائم ہوتے ہی انتشاری عناصر اور ان کے بیرونی سرپرستوں کی سنسنی خیز جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا دم توڑنے لگا ہے۔

آزاد فیکٹ چیک نے خیبرپختونخوا میں ریاست دشمنوں کی رچائی جانیوالی سازش کو بے نقاب کردیا ، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر افغانستان سے چلائے جانے والے ایک اکاؤنٹ کی جانب سے یہ بے بنیاد  دعویٰ کہ ”پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا پر قبضہ کر لیا ہے“ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پھیلائی جانے والی جعلی خبر (Fake News) اور من گھڑت پروپیگنڈا ثابت ہو گیا ہے ۔

وائرل ویڈیو کی حقیقت: نیپال کے پرانے مظاہرے

 آزاد فیکٹ چیک کی رپورٹ کے مطابق وائرل کی جانے والی ویڈیو کا جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے جائزہ لیا گیا جس سے حقائق کھل کر سامنے آگئے  ، درحقیقت جس ویڈیو کو پشاور کے گورنر ہاؤس کا بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے، اس کا پاکستان یا خیبر پختونخوا کے حالات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

 آزاد فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق یہ  ویڈیو سال 2025 میں نیپال کے اندر ہونے والے شدید احتجاجی مظاہروں کی ہے، جسے توڑ موڑ کر اور حقائق کو مسخ کر کے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ عوام میں انتشار پھیلے اور لوگوں میں افراتفری اور ان کے جذبات کو ابھارا جائے ۔

افغان ایکس (X) ہینڈل کا مذموم کردار

فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق اس من گھڑت بیانیے اور فیک ویڈیو کو پھیلانے میں افغانستان سے اپ لوڈ اور کنٹرول ہونے والا ایک ایکس ہینڈل مرکزی کردار ادا کر رہا تھا ،  اس سازش کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد قائم ہونے والے سکون و امن کو خراب کرنا، اور عوام میں سنسنی و خوف پھیلانا تھا ، اصل حقیقت تو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کارکن اس وقت سڑکوں پر ہے ہی نہیں  نہ ہی وہ کسی انتشار کا حصہ بننا چاہتے ہیں  وہ جو لاکھوں کی تعداد کے دعوے کرنیوالے تھے ان کے ساتھ ہی ہوا ہوگئے۔

کے پی اور پشاور کی موجودہ صورتحال

پشاور اور صوبہ خیبرپختونخوا میں اس وقت صورتحال درحقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ، گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے پشاور اور کے پی میں صورتحال مکمل طور پر پرسکون اور کنٹرول میں ہے ،  گورنر ہاؤس مکمل طور پر محفوظ ہے اور وہاں تمام سرکاری امور معمول کے مطابق انجام پا رہے ہیں۔

پشاور میں تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں اور  بی آر ٹی بسیں سڑکوں پر روانہ ہیں، بازاروں میں رونقیں اور گہماگہمی ہے  اور شہریوں کا جینا محال  کرنے والے انتشاری ڈرامے کا خاتمہ ہو چکا ہے اور عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے ۔

خیبر پختونخوا کی سر زمین پر امن کا سورج طلوع ہوتے ہی اندرونی انارکی پسندوں اور ان کے بیرونی آقاؤں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ،  جو عناصر اپنی سیاست چمکانے کے لیے صوبے کو آگ اور خون میں دھکیلتے رہے، اب وہ اپنی شکست چھپانے کے لیے افغان سرزمین سے چلنے والے ہینڈلز کے ذریعے گھٹیا فیک نیوز اور پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شہر گل لالہ میں رونقیں لوٹ آئیں ، تعلیمی ادارے کھل گئے ، بی آر ٹی سروس بھی بحال

نیپال کی پرانی ویڈیوز کو پشاور کا رنگ دے کر سنسنی پھیلانے والے یہ عناصر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ کے پی کا باشعور شہری اب ان کے کسی جھوٹ، فریب یا ڈرامے کا شکار نہیں ہونے والا ہے ،  گورنر راج کے نفاذ اور ریاستی رٹ کی بحالی نے ان کے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔

 صوبے میں ترقی، امن اور قانون کی گاڑی اب رکنے والی نہیں اور پروپیگنڈے کے یہ ہتھکنڈے ان شکست خوردہ عناصر کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔

editor

Related Articles