امریکی فوج نے ایران میں دفاعی حملے مکمل کرنے کا اعلان کر دیا

امریکی فوج نے ایران میں دفاعی حملے مکمل کرنے کا اعلان کر دیا

امریکی فوج نے ایران میں اپنے حالیہ دفاعی حملوں کی تکمیل کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی کمیونیکیشن سسٹمز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے خطے میں موجود امریکی افواج اور بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو لاحق مبینہ خطرات کے جواب میں کیے گئے کارروائی کا مقصد امریکی مفادات کا تحفظ اور خطے میں بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے مواصلاتی نظام اور ایئر ڈیفنس سائٹس کو ہدف بنایا جبکہ آپریشن کے دوران طے شدہ عسکری مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور انہیں ایران کی مبینہ مسلسل اور بلاجواز جارحیت کے ردعمل میں انجام دیا گیا۔

امریکی فوج نے یہ دعویٰ بھی مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور عالمی بحری تجارت متاثر نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکا کو بھر پور جواب ، 18 اہم امریکی اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ

واضح رہے کہ امریکا نے رات تقریباً سوا دو بجے ایران کے مختلف مقامات پر نئے حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ان حملوں سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک بڑی عسکری کارروائی کر سکتا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ حالیہ حملے نہ صرف خطے میں امریکی فوجی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھے بلکہ ان سے امریکا کی سفارتی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی حکام مسلسل امریکی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دے رہے ہیں۔

 ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کو ایک خطرناک مرحلے میں داخل کر چکی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان عسکری محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles