وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اضافہ زیادہ تر پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی ریکارڈ آمدن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ یہ نمایاں اضافہ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں بڑی بہتری کو ظاہر کرتا ہے اور حکومت کی آمدنی بڑھانے کی پالیسیوں کی کامیابی کا پتہ دیتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی سے ریکارڈ آمدن
نان ٹیکس آمدن میں سب سے بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی کا رہا، جس سے حکومت نے 1,220 ارب روپے حاصل کیے، جو کہ مالی سال 2022-23 میں حاصل ہونے والے 1,019 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔
فی الحال حکومت فی لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر 78 روپے تک لیوی وصول کر رہی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
حکومت نے مالی سال 2024-25 میں پیٹرولیم لیوی سے 1,468 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو کہ پچھلے سال کی نسبت 248 ارب روپے زیادہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ایک نئی’کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘ بھی نافذ کی ہے، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 2.50 روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام سے 48 ارب روپے کی اضافی آمدن کی توقع کی جا رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا ریکارڈ منافع
نان ٹیکس آمدن کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا منافع رہا، جس نے مالی سال 2023-24 میں حکومت کو 2,619 ارب روپے کا ریکارڈ منافع منتقل کیا۔ یہ مالی استحکام کی پالیسیوں میں مرکزی بینک کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
مستقبل کی توقعات
حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیویز اور ادارہ جاتی منافع جات میں مسلسل اضافے کی بنیاد پر حکومت نے مالی سال 2025-26 میں نان ٹیکس آمدن 5,147 ارب روپے تک پہنچنے کا ہدف رکھا ہے۔
اگرچہ حکومت کے مطابق یہ حکمتِ عملی ملکی مالی خودمختاری کو مضبوط کرنے اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کی طرف ایک قدم ہے، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہیں۔