باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں سے متعلق بات چیت کے حوالے سے جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی،سیکورٹی ذرائع

باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں سے متعلق بات چیت کے حوالے سے جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی،سیکورٹی ذرائع

باجوڑ میں قبائل اور خارجیوں سے متعلق بات چیت کے حوالے سے جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں جو بعض حلقوں کی جانب سے پیش کیے جا رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خوارج اس وقت باجوڑ میں مقامی آبادی کے درمیان رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہاں سے دہشتگردانہ اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

ان عناصر کی اکثریت غیر ملکیوں، خصوصاً افغانیوں پر مشتمل ہے، جو مقامی امن و امان کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر، خیبرپختونخوا حکومت، وزیر اعلیٰ اور متعلقہ سیکورٹی حکام نے قبائل کے سامنے ایک واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں چـہکان اور میران شاہ میں امن کانفرنسز اور قبائلی جرگہ کا انعقاد، علما، مشران کا فتنتہ الخوارج کے خاتمے کے عزم کا اظہار

قبائل کو کہا گیا ہے کہ ان خارجیوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کریں تاکہ سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی عمل میں لا سکیں۔ اگر قبائل ان خوارج کو خود نہیں نکال سکتے تو انہیں چاہیے کہ وہ ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کر دیں، تاکہ سیکیورٹی فورسز مؤثر اور ہدفی کارروائی کرتے ہوئے ان دہشتگردوں کو اُن کے انجام تک پہنچا سکیں۔

تاہم اگر یہ دونوں اقدامات ممکن نہ ہوں تو سیکیورٹی ادارے ہر حال میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے اور کوشش کی جائے گی کہ عام شہریوں کو کسی ممکنہ نقصان   سے حتی الامکان محفوظ رکھا جا سکے۔

حکومتی پالیسی بالکل واضح ہے کہ خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ ریاست کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم نہ کر دیں۔

ان کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہ دین اجازت دیتا ہے، نہ ریاست اور نہ ہی خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کی اقدار ،سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور یہی اختیار ریاستی ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال کرتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *