پاک افغان جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا، شرائط پر اتفاق ہو گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کا باضابطہ اعلان

پاک افغان جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا، شرائط پر اتفاق ہو گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کا باضابطہ اعلان

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشتگرد حملے فوری طور پر بند کیے جائیں گے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی و عسکری کامیابی ہے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے اور دہشتگردی کی ہر قسم کی حمایت اور سہولت کاری کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں:پاکستان، افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ، ’صحیح سمت میں پہلا قدم‘، وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا خیر مقدم

پاکستانی قیادت کا کہنا ہے کہ ’یہ معاہدہ ہمارے اُس واضح اور غیر مبہم مؤقف کی جیت ہے جس میں ہم نے افغانستان سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا تھا،‘ پاکستانی قیادت کا مزید کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان نے ’پوزیشن آف اسٹرینتھ‘ سے کیا، جہاں افواجِ پاکستان نے پہلے زمینی سطح پر دشمن کو سخت پیغام دیا اور پھر مذاکرات کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی تفصیلات کو عوامی نہ کرنا اور سلسلہ جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے افغانستان کو اپنا چہرہ بچانے کا موقع دیا ہے۔

استنبول میں اگلا مرحلہ 25 اکتوبر کو نئی میٹنگ

وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ 25 اکتوبر کو استنبول میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان دوبارہ ملاقات ہو گی، جہاں تفصیلی معاملات پر بات چیت ہو گی اور نگرانی کے طریقہ کار پر بھی غور متوقع ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہم قطر اور ترکیہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے اس مشکل وقت میں ثالثی کا مؤثر اور تعمیری کردار ادا کیا۔‘

افغانستان کی پہلی باضابطہ یقین دہانی

ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت افغانستان نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین سے کسی بھی قسم کی دہشتگردی یا سہولت کاری کا عمل فوری طور پر روکا جائے گا۔ پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف عالمی اور علاقائی سطح پر مستقل طور پر اٹھایا جاتا رہا ہے۔

عسکری قوت اور مؤثر پیغام

پاکستانی سیکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ پاکستان نے عسکری سطح پر مؤثر کارروائیاں کر کے مخالف فریق کو واضح پیغام دیا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ افواجِ پاکستان کی حکمت عملی کی بدولت مخالف فریق مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا اور پاکستان کے اصولی مطالبات کو تسلیم کیا گیا۔

سفارتی حکمت اور ذمہ داری

پاکستان کی طرف سے سفارتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدے کی تمام تفصیلات کو فی الحال ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ مذاکراتی عمل کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ عمل پاکستان کے حقیقت پسندانہ اور بالغ نظر رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:قطر مذاکرات : پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ معاہدہ اگرچہ ایک ابتدائی قدم ہے، لیکن یہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی طرف ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ ایک خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *