پنجاب میں صفائی اور گورننس کے ناقص انتظامات، وزیراعلیٰ مریم نواز برہم، بڑے فیصلوں کا اعلان

پنجاب میں صفائی اور گورننس کے ناقص انتظامات، وزیراعلیٰ مریم نواز برہم، بڑے فیصلوں کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے مختلف شہروں میں صفائی کی غیر تسلی بخش صورتحال، انتظامی خامیوں اور گورننس کے کمزور معیار پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فوری اصلاحات اور سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اہم اجلاس میں ’ستھرا پنجاب پروگرام‘ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں متعدد محکموں کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:صاف ستھرا پنجاب پروگرام، دکانوں اور گھروں پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ

اجلاس کے دوران مریم نواز نے واضح اور سخت لہجے میں کہا کہ صوبے میں اربوں روپے کی مشینری، ڈیڑھ لاکھ ورکرز اور مکمل اختیارات کے باوجود شہروں میں کوڑے کے ڈھیر ہونا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے غیر معیاری کارکردگی دکھانے والے کنٹریکٹرز کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’فنڈز دینے کے باوجود بہترین رزلٹ نہ آنا افسوسناک ہے، میں سو فیصد رزلٹ چاہتی ہوں، کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

صفائی کے ناقص انتظامات پر سخت اقدامات

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ’ستھرا پنجاب‘ کے وہ کنٹریکٹر جو معیار پر پورا نہیں اترتے، ان کی ادائیگی فوری طور پر معطل کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی غور کرنے کی ہدایت دی کہ خراب کارکردگی کی صورت میں کنٹریکٹس کو دوبارہ سے نیلام کیا جائے۔ مریم نواز نے حکم دیا کہ پنجاب بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کوڑے دان دھوئے جائیں، ویسٹ انکلوژرز کو مکمل چاردیواری کے ساتھ بند کیا جائے اور تمام شہروں میں فٹ پاتھوں، بس اسٹینڈز، پارکنگ ایریاز اور مارکیٹس کی مثالی صفائی یقینی بنائی جائے۔

ڈپٹی کمشنرز کی سرزنش اور گورننس کے لیے نئے احکامات

مریم نواز نے متعدد ڈپٹی کمشنرز کو آوارہ کتوں کے حملوں، مین ہولز میں گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں اور انتظامی غفلت پر سخت سرزنش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی افسران کو مکمل اختیارات، فنڈنگ اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں، اب کارکردگی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی،شہروں اور دیہات کا امن بحال ہوا ہے،مریم نواز

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے بھر میں گورننس کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے خفیہ ٹیمیں بھیجی جائیں گی جبکہ ہر ڈسٹرکٹ کے ’کی پرفارمنس انڈیکیٹرز‘ کی باقاعدہ اور سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے وارننگ دی کہ ’مسلسل غیر معیاری کارکردگی دکھانے والے افسران کو تبدیل کر دیا جائے گا، دو وارننگ کے بعد تیسری پر ڈپٹی کمشنر کو ہٹا دیا جائے گا۔‘

تجاوزات کے خاتمے کے لیے 24/7 سی سی ٹی وی مانیٹرنگ

وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں تجاوزات کے مستقل خاتمے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے مانیٹرنگ کا نظام فعال کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ریڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں فوری ہٹائی جائیں، غیر قانونی تعمیرات لمحوں میں ڈیجیٹل ریکارڈ پر آ جانی چاہئیں۔

قیمتوں کی خلاف ورزی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف سخت کارروائی

مریم نواز نے سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری گرفتاریوں کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے میں ناکامی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں صفائی، مین ہول ڈھکنوں اور سٹریٹ لائٹس کی بحالی کے احکامات بھی جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ جو سوسائٹیز حکومتی احکامات پر عمل نہیں کرتیں، ان پر بھاری جرمانوں کی تجویز پر اتفاق ہو چکا ہے۔

شہروں کی خوبصورتی کے لیے خصوصی ہدایات

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ہر شہر کی داخلی اور خارجی شاہراہوں کی صفائی، گرین بیلٹس کی بحالی، نئی شجرکاری، گھاس کی کٹائی، لین مارکنگ کی تجدید اور لٹکتے ہوئے بجلی کے تاروں کو فوری درست کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’عوام کے گھروں کو اپنا گھر سمجھ کر صاف رکھیں، برازیل میں درخت کی شاخ کاٹنا بھی جرم ہے، ہمیں بھی اسی سطح کی گورننس چاہیے۔‘

اضافی شعبوں میں بھی ایکشن

وزیراعلیٰ نے فری میڈیسن کی عدم دستیابی پر بعض سرکاری اسپتالوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، جبکہ الیکٹرک بسوں کی حفاظت و دیکھ بھال کو بھی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مساجد کے وضو خانے کا پانی شجرکاری میں استعمال کرنے کا پلان بھی پیش کیا۔

تقریبات کا وقت اور ون ڈش پالیسی

مریم نواز نے تمام شہروں میں شادی ہالز کے لیے رات 10 بجے تک تقریبات ختم کرنے اور ون ڈش پالیسی کی سختی سے پابندی کی ہدایت بھی جاری کی۔

یہ بھی پڑھیں:معاشی بیڑا غرق کرنے والے سنیں! ہم سے فساد نہیں، ترقی کا بیانیہ بنتا ہے، مریم اورنگزیب

وزیراعلیٰ نے واضح پیغام دیا کہ پنجاب میں گورننس اور صفائی کے معاملے میں ’نیکسٹ لیول اسٹینڈرڈ‘ درکار ہے اور حکومت کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’پنجاب باقی صوبوں سے بہتر ہے، لیکن میں مطمئن نہیں۔ ہمیں معیار کو اگلے درجے پر لے جانا ہے۔‘

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *