محمد نواز کی گیند، کوپر کونولی کا خواجہ نافع کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ، کرکٹ دُنیا 2 حصوں میں بٹ گئی

محمد نواز کی گیند، کوپر کونولی کا خواجہ نافع کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ، کرکٹ دُنیا 2 حصوں میں بٹ گئی

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے تیسرے ٹی 20 میچ میں اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب آسٹریلوی بلے باز کوپر کونولی کو ایک متنازع اسٹمپنگ پر آؤٹ قرار دے دیا گیا۔ میچ کے اہم مرحلے پر ہونے والے اس فیصلے نے نہ صرف کھیل کا رخ بدلا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث کو جنم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ٹیم ہدف کے تعاقب میں شدید دباؤ کا شکار تھی اور اسے آخری مرحلے میں 38 گیندوں پر 126 رنز درکار تھے جبکہ صرف 4 وکٹیں باقی تھیں۔ ایسے نازک موقع پر پاکستان کے کامیاب ترین بولر محمد نواز نے گیند کروائی، جس پر کوپر کونولی نے آگے بڑھ کر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں:سری لنکا نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا اعلان، داسن شاناکا کیپٹن مقرر

کونولی گیند کو درست طریقے سے کنٹرول نہ کر سکے اور گیند ان کی لیگ سائیڈ سے ہوتی ہوئی وکٹ کیپر خواجہ نافع کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ خواجہ نافع نے غیر معمولی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر بیلز گرا دیں اور امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دے دیا۔

تاہم ری پلے سامنے آنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ اسٹمپنگ آئی سی سی قوانین کے مطابق درست نہیں تھی۔ ویڈیو فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خواجہ نافع نے اسٹمپ بائیں ہاتھ سے کیے جبکہ گیند ان کے دائیں ہاتھ میں موجود تھی۔

آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اسٹمپنگ اسی صورت درست تصور کی جاتی ہے جب وکٹ کیپر گیند اسی ہاتھ میں رکھ کر وکٹوں کو نشانہ بنائے جس ہاتھ سے بیلز گرائی جائیں۔ اس خلاف ورزی کے باوجود نہ تو آن فیلڈ امپائرز، نہ کھلاڑیوں اور نہ ہی تھرڈ امپائر نے اس لمحے اس تکنیکی نکتے کو نوٹ کیا۔

مزید پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں اچانک کمی، زیورات کی فروخت میں بے پناہ اضافہ، دبئی گولڈ مارکیٹ میں رش

اس فیصلے کے بعد کوپر کونولی پویلین لوٹ گئے اور آسٹریلوی ٹیم مزید دباؤ میں آ گئی، جس سے میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ بعد ازاں جب یہ ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو شائقین کرکٹ، سابق کھلاڑیوں اور ماہرین قوانین کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہو گئی۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ انسانی غلطی تھی جو کھیل کا حصہ ہے، جبکہ دیگر کا موقف ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایسے واضح قوانین کی خلاف ورزی پر فیصلہ تبدیل کیا جانا چاہیے تھا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ٹی 20 کرکٹ میں امپائرنگ اور تھرڈ امپائر کے کردار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *