سعودی عرب میں یومِ تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ دارالحکومت ریاض سمیت ملک کے مختلف شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کو قومی رنگوں سے سجایا گیا ہے جبکہ فضا جشن کے نعروں سے گونج اٹھی ہے۔ شہری اس تاریخی دن کو بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں۔
یومِ تاسیس پہلی سعودی ریاست کے قیام کی تین سو سالہ یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق پہلی سعودی ریاست کی بنیاد امام محمد بن سعود نے سنہ 1744 میں رکھی تھی۔ اسی تاریخی موقع کی یاد میں ہر سال یہ دن قومی سطح پر منانے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ نئی نسل کو مملکت کی تاریخ اور ورثے سے آگاہ رکھا جا سکے۔
اس دن کو سرکاری سطح پر منانے کی منظوری شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سال 2022 میں دی تھی، جس کے بعد یومِ تاسیس کو باقاعدہ قومی تہوار کا درجہ حاصل ہوا۔ حکومت کی جانب سے اس موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ شہری تقریبات میں شرکت کر سکیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں ثقافتی پروگرام، عوامی اجتماعات، روایتی فنون کے مظاہرے اور موسیقی کی محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔ سعودی فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں ان تقریبات میں شریک ہو کر اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
تقریبات کے دوران قومی پرچم کی نمائش، تاریخی مناظر کی عکاسی اور روایتی ثقافت کو اجاگر کرنے والے پروگرام بھی پیش کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد قومی یکجہتی اور تاریخی شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔