فلسطینی مذاحمتی تحریک حماس ہتھیار ڈالنے پر مشروط آمادہ

فلسطینی مذاحمتی تحریک حماس ہتھیار ڈالنے پر مشروط آمادہ

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پہلی بار واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل فلسطینی سرزمین پر جاری قبضہ ختم کر دے تو تنظیم ’اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے‘ کے لیے تیار ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ نے ایک بیان میں کہا کہ حماس کے پاس موجود ہتھیار ’قبضے اور جارحیت کا نتیجہ ہیں‘ اور اگر یہ عوامل ختم ہو جائیں تو مزاحمت کی ضرورت خود بخود باقی نہیں رہتی۔

یہ بھی پڑھیں:فلسطینی گروپوں کا غزہ کا انتظام غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق، حماس کی بھی رضامندی

خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ حماس ’اقوام متحدہ کی ایک علیحدگی فورس‘ کی تعیناتی کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہے، جو غزہ کی سرحدوں کی نگرانی کرے اور جنگ بندی کے معاہدے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی فورس کی موجودگی سے نہ صرف اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے بلکہ غزہ میں مستقل امن کی راہ بھی ہموار ہو گی۔

ادھر دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائیوں میں قابض فوج نے غزہ میں مزید سات فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 11 اکتوبر 2025 کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک اسرائیل کی جانب سے ’367 فلسطینیوں کو شہید‘ کیا جا چکا ہے، جسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل کے اقدامات پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ 2 روز قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک اہم بیان میں کہا تھا کہ ’واضح شواہد موجود ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا‘۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرائی جائے۔

مزید پڑھیں:غزہ جنگ بندی مذاکرات، حماس نے سرکردہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی سمیت متعدد شرائط رکھ دیں

اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ’70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید‘ جبکہ ’ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ زخمی‘ ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر تباہی نے غزہ کی شہری زندگی، صحت کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

حماس کی جانب سے ہتھیار پھینکنے کی مشروط آمادگی کو خطے میں ممکنہ سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس سلسلے میں اصل فیصلہ کن عنصر اسرائیلی پالیسیوں میں تبدیلی اور مکمل جنگ بندی کا عملی نفاذ ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *