وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب کی تاریخ کے پہلے اور منفرد ’پرواز کارڈ‘ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت ہنرمند نوجوانوں کو 3 لاکھ روپے تک بلاسود مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ’کریٹیو ہینڈ، راہِ روزگار‘ پروگرام اور ’اسکل ڈیولپمنٹ پورٹل‘ کا بھی آغاز کیا، جن کا مقصد نوجوانوں کو جدید ہنر، روزگار اور خود کفالت کی جانب لے جانا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈھائی لاکھ نوجوانوں کی ٹیکنیکل ٹریننگ مکمل کی گئی ہے، جبکہ ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد نوجوان تربیت کے بعد برسرِروزگار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 97 ہزار نوجوانوں کو پاکستان جبکہ 33 ہزار نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار ملا ہے۔
وزیراعلیٰ آفس میں مختلف فنون سے ٹیکنیکل ٹریننگ مکمل کرنے والے 90 طلبہ نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ مریم نواز نے طلبہ سے ان کی تربیت اور روزگار سے متعلق تفصیلات دریافت کیں اور امام مسجد کے ساتھ الیکٹریشن کا کورس کرنے والے طالب علم کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ٹرانس جینڈر طلبہ سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں کوئی انسان نہیں سمجھتا تھا، آپ نے ہمیں عزت اور مقام دیا۔”
مریم نواز نے پنجاب اسکلز ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کے اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں اور جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور پنجاب کے خزانے کا ایک ایک پیسہ نوجوانوں پر لگانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ صرف اسکالرشپس اور ٹریننگ فراہم کر رہی ہے بلکہ ٹریننگ کے بعد روزگار کا بندوبست بھی یقینی بنا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کونے کونے میں نوجوانوں کو وسائل اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ای کامرس، آئی ٹی، لینگویج، الیکٹریشن، کنسٹرکشن اور دیگر کورسز کے ذریعے روزگار کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلف ممالک میں ٹیم بھیج کر نوجوانوں کے لیے جاب مارکیٹ دریافت کی گئی ہے اور بیرونِ ملک جانے والے ہنرمند نوجوانوں کو بھی پرواز کارڈ کے ذریعے 3 لاکھ روپے تک معاونت دی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ “میں یہ نہیں سننا چاہتی کہ پاکستانی لیبر سستی ہے، بلکہ یہ سننا چاہتی ہوں کہ پاکستانی لیبر ہنرمند ہے۔” ان کے مطابق آج کے دور میں اسکل کے بغیر روزگار ممکن نہیں اور حکومت نوجوانوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور نوجوانوں کو اسکالرشپس، لیپ ٹاپس اور کروم بکس بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔