ایسا کیا تو سیدھا جیل جاؤ گے، سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم خبرآگئی

ایسا کیا تو سیدھا جیل جاؤ گے، سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم خبرآگئی

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی( این سی سی آئی اے )نے عوامی آگاہی کے لیے ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک، غیر محتاط پوسٹ یا بغیر تصدیق خبر شیئر کرنا شہریوں کے لیے سنگین قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نہ صرف معاشرتی انتشار کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ قانون شکنی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

این سی سی آئی اے نے واضح کیا ہے کہ صارفین کسی بھی خبر، پوسٹ، تصویر یا لنک کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں کیونکہ بغیر تحقیق اور تصدیق کے مواد پھیلانا قابلِ سزا جرم ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر اعلیٰ عدلیہ، ریاستی اداروں اور مقتدر شخصیات کے خلاف غیر مصدقہ معلومات، جھوٹی خبریں یا گمراہ کن مواد پھیلانا نہایت سنگین قانونی جرم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے نے سوشل میڈیا صارفین کیلئےالرٹ جاری کردیا

ایجنسی کے مطابق پیکا ایکٹ، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، کے سیکشن 26A کے تحت جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو تین سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر 20 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ہر مواد سچ نہیں ہوتا اس لیے صارفین کو جذباتی ردعمل کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ایڈوائزری میں عوام کو نفرت انگیز مواد، فیک نیوز، کردار کشی اور اشتعال انگیز پوسٹس سے مکمل طور پر دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ ایسے مواد کو شیئر کرنے کے بجائے متعلقہ پلیٹ فارم یا اداروں کو رپورٹ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں:سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم خبر

این سی سی آئی اے نے مزید کہا ہے کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو مثبت، محفوظ اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ ایجنسی کے مطابق ذمہ دار رویے کے ذریعے ہی سائبر کرائم کی روک تھام اور ایک محفوظ ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *