سولر سسٹم لگوانے والے شہری خبردار ! حکومت کا اہم فیصلہ آگیا

سولر سسٹم لگوانے والے شہری خبردار ! حکومت کا اہم فیصلہ آگیا

وفاقی حکومت نے سولر توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جس کے تحت معاہدے کے برعکس اضافی سولر پینلز لگا کر بجلی پیدا کرنے والوں کو بلوں میں ریلیف دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق لیسکو سمیت تمام تقسیم کار کمپنیوں پر ہوگا۔

حکام کے مطابق صارفین کو صرف لیسکو سے منظور شدہ لوڈ کے مطابق پیدا کردہ بجلی پر ریلیف دیا جائے گا، اضافی سولر پینلز کے ذریعے پیدا کی گئی زائد بجلی کو بلوں میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اسے تقسیم کار کمپنیوں کے حساب میں ’’صفر یونٹس‘‘ کے طور پر شمار کیا جائے گا۔

اس کا مقصد صارفین کو معاہدے کے مطابق ہی سبسڈی اور ریلیف فراہم کرنا اور غیر مجاز اضافی پیداوار کو محدود کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس ایک لاکھ 89 ہزار پوائنٹس کی حد عبورکرگیا

لیسکو نے اپنی جانب سے نیٹ میٹرنگ کنکشنز پر مکمل نگرانی شروع کر دی ہے، کمپنی کے گرین اور بائی ڈائریکشنل میٹرز کی MDI (Maximum Demand Indicator) ریڈنگ کی جائے گی، جس سے امپورٹ اور ایکسپورٹ شدہ یونٹس کی تفصیل سامنے آئے گی۔

 MDI ریڈنگ کے مطابق اضافی پیداوار پر صارفین کے بلوں میں کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔

ریڈنگ کی بنیاد پر اضافی بجلی پر صارفین کے بلوں میں ریلیف نہیں مل سکے گا، ذرائع کے مطابق پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی نے مراسلہ جاری کر کے پابندی لگوائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر کے صارفین کے لیے خوشخبری ، بجلی سستی ہونےکا امکان

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے صارفین کو اپنے منظور شدہ سولر لوڈ کے مطابق بجلی کی پیداوار پر ہی فائدہ ہوگا، جبکہ غیر قانونی یا اضافی پیداوار کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی مراعات ختم کر دی جائیں گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *