حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہےیہ دعوے بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینے اور ذاتی و سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پھیلائے جا رہے ہیں۔
وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں، اور اس دوران پُرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی خود خوارج کی موجودگی پر تشویش ظاہر کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔
خیبر پختونخواہ حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت 4 ارب روپے کی رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی کے پیشِ نظر رکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :وادی تیراہ میں خوارج کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑے، 4 خوارج ہلاک
اس اقدام کا مقصد پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کرنا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام اور انتظام شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔ اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے، اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر انجام دیا جائے گا۔
صوبائی حکومت یا کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) January 24, 2026

