سینیٹر رانا ثنا اللہ کے وادی تیراہ سے متعلق اہم انکشافات

سینیٹر رانا ثنا اللہ کے وادی تیراہ سے متعلق اہم انکشافات

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی پالیسی پورے ملک میں یکساں ہے اور وادی تیراہ میں دہشتگردوں کی موجودگی کے باعث کارروائیاں ناگزیر ہوچکی ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں کی موجودگی سے بخوبی آگاہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ فورسز کا ہدف دہشتگرد عناصر کی موجودگی کا خاتمہ ہے اور اس ضمن میں صوبائی حکومت مکمل طور پر باخبر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، ہر سال لوگ وہاں سے نقل مکانی کرتے ہیں،میجر جنرل( ر) زاہد محمود

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کیا گیا، تاہم دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر لوگ عارضی طور پر نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے صوبائی حکومت نے باقاعدہ پروگرام تیار کیا ہوا ہے‘۔

مشیر وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ ’وادی تیراہ میں 10 سے 12 ہزار ایکڑ رقبے پر افیون اور بھنگ کی کاشت کی جاتی ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدن دہشتگردوں کو بھتے کی صورت میں جاتی ہے‘۔ ان کے مطابق یہی مالی وسائل دہشتگرد سرگرمیوں کو تقویت دیتے ہیں، اس لیے ریاستی اداروں کے لیے کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ صوبائی حکومت کو حالات کا علم نہیں تھا اور کہا کہ ’یہ بات درست نہیں کہ خیبرپختونخوا حکومت کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا، حکومت کو مکمل آگاہی ہے اور نقل مکانی کرنے والوں کے لیے انتظامات بھی اسی تناظر میں کیے گئے ہیں‘۔ رانا ثنااللہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’جہاں کہیں بھی دہشتگرد موجود ہوں گے، وہاں کارروائی کی جائے گی‘۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت کی دوغلی پالیسی بے نقاب، وادی تیراہ میں آپریشن کی خود اجازت دے کر گمراہ کن پروپیگنڈا مہم شروع کردی

دوسری جانب اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم اسے بلاوجہ بحران کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔ انہوں نے وضاحت کی تھی کہ اس وقت علاقے میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، البتہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جاتی ہیں‘۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ریاست کی اولین ترجیح شہریوں کا تحفظ اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو سہولتیں فراہم کرنا صوبائی اور وفاقی حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *