امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورِ اقتدار کے آغاز سے ہی اپنی پالیسیوں کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، تاہم ان پالیسیوں کے ممکنہ منفی اثرات کا خدشہ بھی خود ان کے بیانات سے جھلکتا نظر آتا ہے۔
آیئوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم یہ انتخابات ہار گئے تو امریکا بہت کچھ کھو دے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے وسط مدتی انتخابات کی باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے اور یقین دلایا کہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل امریکا کو تاریخی مہنگائی کا سامنا تھا، تاہم اب امریکی معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے۔ ان کے بقول بائیڈن کے چار سالہ دور میں امریکا میں صرف ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جبکہ ان کے صرف ایک سالہ دورِ حکومت میں سرمایہ کاری کا حجم بڑھ کر 18 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں کمی کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس ریلیف بھی فراہم کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جاپان، برطانیہ اور آسٹریلیا امریکا میں تاریخی سطح پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور امریکا آج دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ ملک بن چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق اپنی سخت پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی سرحدیں غیر قانونی امیگریشن کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔
خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ایک بحری بیڑا ایران کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیا تھا اور اس فوجی کارروائی میں کوئی بھی شہری ہلاک نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ ایران مستقبل میں امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔