وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، ہر سال لوگ وہاں سے نقل مکانی کرتے ہیں،میجر جنرل( ر) زاہد محمود

وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا، ہر سال لوگ وہاں سے نقل مکانی کرتے ہیں،میجر جنرل( ر) زاہد محمود

میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود نے کہا ہے کہ موسمی حالات کے باعث وادی تیراہ میں اس وقت کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا اور فوج نے واضح فیصلہ کر رکھا ہے کہ لارج اسکیل آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ اس وقت شدید سردی اور برف باری کی لپیٹ میں ہے، تیراہ میں ہر سال معمول کے مطابق 50 سے 60 فیصد آبادی موسم سرما کے دوران نقل مکانی کرتی ہے۔

مقامی لوگ فصلیں اور مال مویشی سنبھالنے کے بعد سردیوں میں دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور یہ ایک دیرینہ روایت ہے۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمودنے کہا کہ تیراہ میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب آبادی مقیم ہے جن میں سے بڑی تعداد ہر سال سردیوں میں ہجرت کر جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :تحریک انصاف وادی تیراہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے، ریما عمر

اس سال نقل مکانی کے عمل میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ سیاسی پولرائزیشن اور آپریشن سے متعلق بیانیہ ہے
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس مرتبہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے چار ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں سے صرف دو ارب روپے ہی متاثرہ افراد تک پہنچ پائیں گے جبکہ باقی فنڈز کدھر جائیں گےاللہ جانتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کے اس عمل کے دوران دہشت گرد عناصر کو بھی علاقے سے نکلنے کے لیے بہتر کور مل جاتا ہے تاہم فوجی حکمت عملی اب واضح ہے اور فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ کسی بھی قسم کا وسیع فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا بلکہ مخصوص اہداف کے خلاف خفیہ معلومات کی بنیاد پر محدود کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے وادی تیراہ میں آپریشن کے حوالے سے سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

editor

Related Articles