بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے فی یونٹ 48 پیسے کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ امکان دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں دائر درخواست پر نیپرا میں ہونے والی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے، جسے مکمل کر لیا گیا ہے۔
نیپرا حکام کے مطابق اتھارٹی اس درخواست پر فیصلہ تمام اعدادوشمار اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جاری کرے گی۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ درخواست فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے سے متعلق تھی۔
سی پی پی اے حکام کے مطابق دسمبر کے مہینے میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدی گیس اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو چلایا گیا۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کے انکریمنٹل پیکج کے باعث بجلی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس موقع پر ممبر نیپرا مقصود انور نے ریمارکس دیے کہ پہلے کہا گیا تھا کہ انکریمنٹل پیکج کے باعث مہنگے بجلی گھر چلانے پڑیں گے، جبکہ سی پی پی اے کی جانب سے اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اس پر سی پی پی اے حکام نے جواب دیا کہ اس فرق کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں ایڈجسٹ کر لیا جائے گا اور انکریمنٹل پیکج کے فوائد بھی موجود ہیں۔
سی پی پی اے کے مطابق انکریمنٹل پیکج سے 44 فیصد صنعتی صارفین اور 39 فیصد زرعی صارفین نے استفادہ کیا ہے۔ سماعت کے دوران ممبر نیپرا مقصود انور نے مزید کہا کہ سولرائزیشن کے باعث دن کے وقت بجلی کی طلب میں کمی آ رہی ہے، لہٰذا دن کے اوقات میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی کوئی پیکج متعارف کرایا جانا چاہیے۔
سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے کام جاری ہے اور جلد اس ضمن میں ریگولیٹر کے پاس درخواست پیش کی جائے گی۔ سماعت کے دوران ممبر مقصود انور نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ پر پاور ڈویژن کی جانب سے تاحال تحریری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔