فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسمارٹ فونز کی درآمد پر ٹیکس کے تعین کے لیے استعمال ہونے والی کسٹمز ویلیوز میں حالیہ دنوں میں نظرثانی کر دی ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر لاگو ہوگی، جن میں سام سنگ، گوگل، ایپل اور ون پلس جیسے معروف برانڈز شامل ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے کسٹمز ویلیوز میں کمی کے بعد امپورٹرز کو ان فونز کی درآمد پر کم ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جس کے نتیجے میں پرانی جنریشن کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔ اس سے قبل سام سنگ گلیکسی S23 سیریز پر نئے پی ٹی اے ٹیکس سامنے آ چکے ہیں، جبکہ اب گلیکسی S22 سیریز کے لیے بھی نئی شرحیں جاری کر دی گئی ہیں۔
سام سنگ گلیکسی S22 سیریز میں گلیکسی S22، گلیکسی S22 پلس اور گلیکسی S22 الٹرا شامل ہیں۔ ایف بی آر کی اپ ڈیٹ کردہ کسٹمز ویلیو لسٹ کے مطابق استعمال شدہ سام سنگ گلیکسی S22 کی کسٹمز ویلیو 80 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جس پر پی ٹی اے ٹیکس تقریباً 7 ہزار 432 روپے بنتا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں نان پی ٹی اے استعمال شدہ گلیکسی S22 کی قیمت 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے، جس کے ساتھ پی ٹی اے ٹیکس شامل کرنے پر اس کی متوقع حتمی قیمت 90 ہزار سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے، تاہم قیمتیں مارکیٹ اور منافع کے فرق کے باعث مختلف ہو سکتی ہیں۔
سام سنگ گلیکسی S22 پلس کی کسٹمز ویلیو 75 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو بنیادی ماڈل سے کم ہے۔ اس کے مطابق اس فون پر پی ٹی اے ٹیکس تقریباً 7 ہزار 180 روپے بنتا ہے۔ نئے ٹیکس ریٹس کے بعد اس فون کی متوقع ریٹیل قیمت ایک لاکھ 10 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
گلیکسی S22 الٹرا کی کسٹمز ویلیو 160 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اس فون پر پی ٹی اے ٹیکس تقریباً 18 ہزار روپے بنتا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں نان پی ٹی اے استعمال شدہ گلیکسی S22 الٹرا کی قیمت ایک لاکھ 10 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار روپے تک دیکھی جا رہی ہے، جبکہ نئے ٹیکس لاگو ہونے کے بعد اس فون کی متوقع ریٹیل قیمت ایک لاکھ 30 ہزار سے ایک لاکھ 70 ہزار روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔